’بائپر جوائے‘انتہائی شدید سائیکلون میں تبدیل، پاکستان اور بھارت میں حفاظتی اقدامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے کہا ہے کہ بحیرہ عرب میں موجود سمندری طوفان ’بائپر جوائے‘ ایک انتہائی شدید سائیکلون میں تبدیل ہو گیا ہے اور 15 جون کو اس کا پاکستان کے علاقے کیٹی بندر اور بھارتی گجرات کے درمیان کے علاقے سے گزرنے کا قوی امکان ہے۔ دونوں ملکوں کے ساحلی علاقوں میں حفاظتی اقدامات کے تحت لوگوں کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔

محکمۂ موسمیات کی ایڈوائزری کے مطابق بائپر جوائے اس وقت کراچی کے جنوب سے 600 کلومیٹر، ٹھٹہ سے 580 کلومیٹر اور اورماڑہ سے 720 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق اس وقت طوفان کے گرد 180 سے 200 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں جس کے سبب لہروں کی اونچائی 35 سے 40 فٹ ہے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ طوفان جس رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اس سے یہ 14 جون کی صبح کیٹی بندر اور پھر بھارت کے علاقے گجرات سے گزرے گا جس کے نتیجے میں 15 جون کی دوپہر تک یہ شدت اختیار کرسکتا ہے۔

اس طوفان کی وجہ سےسندھ کے جنوب مشرقی ساحلی علاقوں میں تیز بارش اور گرد آلود ہوائیں چل سکتی ہیں۔

پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایئر سائیڈ ڈیپارٹمنٹ نے متعلقہ حکام کو الرٹ کیا کہ وہ ہلکے وزن والے ہوائی جہاز اور دیگر برقی آلات کی حفاظت کو یقینی بنائیں، علاوہ ازیں تصادم کے خطرے کے پیش نظر کراچی میں رن ویز اور ٹارمک ایریا کے قریب موجود سامان کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے ۔

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) اس حوالے سے سندھ اور بلوچستان کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، پاک بحریہ، پاکستان میری ٹائم سکیورٹی اتھارٹی اور پاکستان کوسٹ گارڈز کے ساتھ مل کر ایڈوائزری اور گائیڈ لائنز جاری کر رہی ہے تاکہ قومی اور صوبائی سطح پر تمام اسٹیک ہولڈرز چوکنا رہیں اور بروقت اقدامات کریں۔

وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے ٹوئٹ کیا کہ ’بائپر جوائے سائیکلون کی درجہ بندی شدید ترین کے درجے میں کی گئی ہے اور اس کے بارے میں کوئی پیش گوئی مشکل ہے، گھبراہٹ سودمند نہیں لیکن بےخبری میں نشانہ بننے سے بہتر ہے کہ خبردار رہتے ہوئے منصوبہ بندی کی جائے، سندھ اور بلوچستان کے تمام متعلقہ محکمے ’ہائی الرٹ‘ رہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں