الیکشن کمیشن کو دھمکیاں، فواد چوہدری پر فرد جرم عائد 24 جون کو لگے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسلام آباد کے ایڈیشنل اینڈ سیشن جج نے الیکشن کمیشن اہلکاروں کو دھمکیاں دینے کے کیس میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 24 جون کی تاریخ مقرر کردی۔

فواد چوہدری آج عدالت میں پیش ہوئے اس سے قبل وہ گزشتہ 2 سماعتوں پر پیش نہیں ہوئے تھے۔

ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے فواد چوہدری اور ان کے ضامن کو آج طلب کر رکھا تھا، عدالت نے لاہور اور اسلام آباد کی رہائش گاہوں پر طلبی سمن وصول کرانے کا حکم دیا تھا۔

آج پیشی کے موقع پر عدالت نے مقدمےکی نقول فواد چوہدری کو فراہم کر دیں اور آئندہ سماعت پر فواد چوہدری کو حاضری یقینی بنانےکا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 24 جون تک ملتوی کر دی، عدالت کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری پر 24 جون کو فرد جرم عائد کی جائے گی۔

خیال رہے کہ فواد چوہدری پر چیف الیکشن کمشنر سمیت الیکشن کمیشن کے دیگر اہلکاروں کے اہل خانہ کو دھمکیاں دینےکا الزام ہے۔

اس کیس میں فواد چوہدری کو 25 جنوری کو لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا، یکم فروری کو سیشن کورٹ نے فواد چوہدری کو ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا۔

اس وقت کے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے 24 جنوری 2023 کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہا تھا کہ ’ہم الیکشن کمیشن، ان کے ممبران کو، ان کے خاندانوں کو اور یہ جو لوگ ہیں ان کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر ہمارے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ جاری رہا تو انہیں اس کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ہم نے بڑا صبر اور احتیاط کی لیکن یہ معاملہ چلنے کا نہیں، یہ جو لوگ یہ نگران حکومت میں لگ رہے ہیں، چاہے وہ چیف منسٹر ہو، الیکشن کمشنر ہو یا باقی لوگ ہوں، آپ یہاں تین مہینے، چار مہینے یا سال کے لیے ہیں، آپ لوگوں کا پیچھا ہم آپ اس وقت تک کریں گے جب تک قرار واقعی سزا نہ دے دیں۔

اسلام آباد پولیس نے سیکرٹری الیکشن کمیشن کی جانب سے تھانہ کوہسار میں درج کرائے گئے مقدمے کے بعد فواد چوہدری کو لاہور میں رات گئے ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں