فرسٹ ائیر کا ہونہار طالب علم امتحانی سنٹر کی حدود میں قتل

چیف ملزم مہران ریاض کو دوسرے شریک ملزماں کے ہمراہ مختلف علاقوں سے گرفتار کر لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امتحان دینے کے لیے آیا فرسٹ ائیر کا ہونہار طالب علم امتحانی سنٹر کی حدود میں قتل، 18 سالہ علی رشید مغل نقل میں مدد نہ کرنے کی پاداش میں مبینہ طور پر تین طلبا کے ہاتھوں قتل ہوا۔

لوئر چھتر سٹی کے رہائشی مقتول طالب علم کا تعلق گڑھی دوپٹہ سے بتایا جاتا ہے۔ سٹی پولیس نے سی سی کیمروں کی فوٹیج، جیو فینسنگ اور دیگر جدید تکنیکی مہارت سے مقتول کی والدہ کی معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے رات گئے چیف ملزم مہران ریاض اور دیگر شریک ملزموں کو گرفتار کر لیا۔

جمعہ کی شام قتل ہونے والے نوجوان کے قتل کہ اطلاع پولیس کو دیر سے ملی، تاہم پولیس نے گورنمنٹ پائلٹ ہائی سکول جس کا امتحانی ھال بطور سنٹر تھا پہنچ کر لاش تحویل میں لی اور ورثا کی اجازت کے بعد اسے شیخ خلیفہ بن زاید آل نہیان ہسپتال سی ایم ایچ منتقل کیا جہاں مقتول کا پوسٹ مارٹم کیا گیا جسے قاتلوں نے بے دردی کے ساتھ خنجروں کے وار کرکے قتل کردیا تھا۔

مقتول علی رشید مغل کا والد محکمہ برقیات کا لائن مین ہے جبکہ مقتول بچہ دو بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا جو اچھے اخلاق، کردار اور قابلیت کی وجہ سے مشہور تھا۔ مقتول کی والدہ نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ اس کے بیٹے نے انہیں بتایا تھا کہ امتحانی سنٹر میں چند اوباش لڑکے نقل کروانے پر بضد ہیں انکار پر مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں

جمعہ کے روز نوجوان سیکنڈ شفٹ کا پرچہ دینے کے بعد امتحانی مرکز سے نکلا ہی تھا کہ باہر گھات لگائے لڑکوں نے اس پر حملہ کر دیا جس کی سی سی فوٹیج بھی منظر عام پر آ چکی ہے پولیس نے ایف آئی آر کاٹ کر ملزمان سے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

دوسری جانب مقتول کے ورثا اور سول سوسائٹی نے واقعہ کے خلاف سی ایم ایچ روڈ پر سڑک بلاک کر کے کئی گھنٹے طویل احتجاج کیا تاہم پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے قاتلوں کی بر وقت گرفتاری اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے وعدے پر احتجاج مؤخر کر دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں