پاکستان ایک سال میں گیس خرید کرنے کی پہلی کوشش میں ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان قریباً ایک سال میں اسپاٹ مارکیٹ سے مائع قدرتی گیس خریدنے کی اپنی پہلی کوشش میں ناکام رہا ہے اورپاور اسٹیشن ایندھن کا کوئی سپلائر کارگو پیش کرنے کو تیار نہیں۔

پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے اکتوبر تا دسمبر ترسیل کے لیے چھے شپمنٹ خرید کرنے کا ٹینڈر جاری کیا تھا لیکن اس کا کسی بھی کمپنی نے جواب نہیں دیا اور یہ منگل کو بند ہو گیا ہے، اس معاملے سے آگاہ تاجروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ میڈیا سے بات کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔

بلومبرگ نے گذشتہ ہفتے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ کئی غیر ملکی بینک پاکستانی بینکوں سے ایل این جی شپمنٹ خریدکرنے کے لیے لیٹر آف کریڈٹ قبول نہیں کر رہے تھے جس کی وجہ سے سپلائرز کارگو کی پیش کش کرنے سے ہچکچا رہے تھے۔

پاکستان اس وقت کمزور ہوتی کرنسی، سیاسی افراتفری اور دیوالا نکلنے کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نبرد آزما ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حال ہی میں حکومت کے پیش کردہ بجٹ کو اپنے بیل آؤٹ پروگرام کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے ناکافی قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جو اس بات کی علامت ہے کہ امداد کے حصول کے لیے رواں ماہ دی گئی ڈیڈ لائن پوری نہیں ہوگی۔

پاکستان کی جانب سے گیس خریدنے میں ناکامی سے ملک میں توانائی کی قلت بڑھے گی، بلیک آؤٹ کے دورانیے میں اضافہ ہوگا اور صنعتی صارفین کو ایندھن کی ترسیل رک جائے گی۔

گذشتہ سال روس کے یوکرین پر حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کی وجہ سے پاکستان کو شدید نقصان پہنچا تھا جس کی بڑی وجہ توانائی کی درآمدات پر زیادہ انحصار تھا۔ گذشتہ سال پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اسی طرح کے کئی ٹینڈر بھی رسد کنندگان سے پیش کش حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں