خون کے آخری قطرے تک لڑوں گا: العربیہ ٹی وی کو انٹرویو میں عمران خان کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

تحریک انصاف پاکستان کے چیئرمین اور سابق معزول وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے’’کہ جب تک جنوبی ایشیا کے اہم ملک پاکستان میں جمہوری پالسیوں کا نفاذ نہیں ہوتا، وہ خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے‘‘

دبئی اور ریاض سے عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے پین عرب نیوز چینل ’’العربیہ‘‘ کے فلیگ شپ پروگرام ’’البعد الآخر‘‘ میں اینکر پرسن منتہیٰ الرمحی کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا: ’’قانون کی حکمرانی اور حقیقی آزادی کے بغیر ہمارا کوئی مستقبل نہیں، جمہوریت ہی حقیقی آزادی کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔‘‘ عمران خان نے اپنے ہمہ پہلو انٹرویو میں دعوی کیا ’’کہ فوجی اسٹبلشمنٹ اکیلے ہی ملک کو اپنی انگلیوں پر نچا رہی ہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے اس رائے کا اظہار کیا ’’کہ ملک میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ [پی ڈی ایم] نامی حکومتی اتحاد میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کی فوجی اسٹبلشمنٹ کے بغیر پر کاہ جیسی اہمیت بھی نہیں۔ آج اگر انتخابات ہوں، تو یہ سب خس وخاشاک کی طرح بہہ جائیں گے۔‘‘

ان کا کہنا تھا ’’کہ پی ڈی ایم کو فوجی حمایت کے باوجود ملک میں ہونے والے 37 حلقوں کے ضمنی انتخاب میں ان کی جماعت نے 30 پر کامیابی حاصل کی۔ یہ سب درحقیقت کٹھ پتلیاں ہیں، اصل طاقت فوجی اسٹبلشمنٹ ہے۔‘‘

چیئرمین تحریک انصاف نے یہ بھی دعویٰ کیا ’’پاکستان کو اس وقت جنگل کے قانون کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ قانون کی حکمرانی چنداں باقی نہیں رہی۔ عدلیہ کو مجروح کر دیا گیا ہے، ذرائع ابلاغ کی آواز دبائی جا رہی ہے۔ اسے مکمل طور پر کنڑول کیا جا رہا ہے۔ میری جماعت، جو ان کے بہ قول، ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے کو بدترین انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جمہوریت کی عمارت کو منہدم کیا جا رہا ہے۔‘‘

عمران خان کے فوجی اسٹبلشمنٹ کے خلاف تند وتیز بیانات کے باوجود یہ بات عمومی طور پر مشہور اور درست تسلیم کی جاتی ہے کہ 2018 کو ہونے والے انتخابات میں 70 سالہ کرکٹر سے سیاستدان بننے والے عمران خان کو کامیاب بنانے میں دراصل فوج نے ہی اہم کردار ادا کیا۔ اسٹبلشمنٹ اور عمران کے درمیان تعلقات میں بگاڑ اس وقت آنا شروع ہوا جب مؤخر الذکر نے نظام حکومت کے چند فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔

’’ایڈولف ہٹلر نے ایسا کیا‘‘

عدالتی احاطے سے نیم فوجی دستوں کے ذریعے گرفتاری کے بعد اپنے حامیوں کی 9 مئی کو کی جانے والی پرتشدد کارروائیوں کے ڈانڈے جرمن آمر ایڈولف ہٹلر کے مشہور زمانہ کریک ڈاؤن سے ملاتے ہوئے عمران خان نے کہا ’’کہ یہ سب پہلے سے طے شدہ ایک منصوبے کا حصہ تھا، جس طرح مجھے اٹھایا گیا، پولیس بآسانی مجھے پکڑ سکتی تھی، میں ستر سال کا بوڑھا آدمی ہوں۔ مجھے گرفتار کرنے کے لئے کمانڈو ایکشن کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔‘‘

’’میری گرفتاری پر ہونے والے ردعمل، جو ہونا ہی تھا، کو تحریک انصاف کو تتر بتر کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ اصل میں جرمن آمر ایڈولف ہٹلر نے 1933 میں ایسا ہی کیا۔ برلن میں جرمن پارلیمنٹ کو نذر آتش کیا گیا۔ ہٹلر نے آتشزدگی کو جواز بنا کر اپنے کیمونسٹ مخالفین کی زندگی اجیرن بنا دی اور انہیں تاراج کیا۔‘‘

عمران خان نے دوران انٹرویو متعدد مرتبہ دعویٰ کیا کہ نومبر 2022 کو لانگ مارچ کے دوران ان پر ہونے والے ناکام قاتلانہ حملے کے بعد کئی مرتبہ ان کی جان لینے کی کوشش کی جا چکی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں حریف جماعتوں کے درمیان لڑائی مسلسل جاری ہے جبکہ عوام ریکارڈ افراط زر، ختم ہوتے ہوئے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی وجہ سے پیدا ہونے والی بدترین معاشی صورت حال کا مقابلہ کرنے کی سکتے روز بروز کھوتے جا رہے ہیں۔

اقتدار اور پارٹی کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی تنہائی ختم کرنے کی غرض سے عمران خان فوجی جرنیلوں سے بات چیت پر رضامند ہو گئے ہیں، تاکہ لڑائی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

’’العربیہ‘‘ کے سوال پر عمران خان نے اس بات کا اعتراف کیا ’’کہ وہ تنہا ہو گئے ہیں، ان کی جماعت کی اعلیٰ قیادت زیر زمین جا چکی ہے یا پھر جیل میں بند ہے۔ مجھے اب اس بات میں کوئی شک نہیں رہا کہ جلد یا بدیر مجھے بھی پابند سلاسل کر دیا جائے گا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ’’مذاکرات دوطرفہ ہونے چاہیں، تاہم ابھی تک پاکستان فوج کے سپہ سالار نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ نام نہاد اسٹبلشمنٹ کیوں ان کی سیاست ختم کرنے کے درپے ہے۔‘‘ یاد رہے پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے منگل کے روز عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

’’مجھے پتا چلنا چاہیے کہ آرمی چیف کو مجھ سے کیا مسئلہ ہے؟ میں یہ اس لئے جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کیوں اس بات کا فیصلہ کر چکے ہیں کہ مجھے کسی طور پر اقتدار میں نہیں آنا چاہیے۔ مجھے علم ہونا چاہیے، کیا ایشوز ہیں اور وہ کیا چاہتے ہیں؟‘‘

’’صرف یہ کہنا معقول بات نہیں کہ آرمی چیف نے فیصلہ کر لیا ہے کہ عمران خان کو وزیر اعظم نہیں بننا چاہئے۔ اس کی کوئی وجہ ہونی چاہیے، جو ہمیں بتائی جانا ضروری ہے۔ پھر جو ملک کے حق میں بہتر ہو، کر لیا جائے۔‘‘

عمران خان نے کہا ’’کہ اگر آرمی چیف انہیں اس بات پر قائل کر لیں کہ میرا [عمران خان] کا اقتدار سے باہر رہنا پاکستان کے حق میں بہتر ہے، تو میں حکومت سے باہر رہ لوں گا۔‘‘ عمران خان اکتوبر 2023 کو ہونے والے متوقع انتخابات سے متعلق پرامید ہیں۔

’’۔۔۔اسٹبلشمنٹ اور حکومتی جماعتیں جو چاہیں کر لیں، چاہیے جتنے مرضی سینئر رہنماؤں کو جیل میں ڈالیں، ہمارا ووٹ بینک لاکھوں میں ہو گا۔ کیا یہ ووٹرز کو بھی جیلوں میں ڈال سکیں گے؟ جب تک ہمارا ووٹ بینک برقرار ہے، اگلا الیکشن، ان شاء اللہ، ہم ہی جیتیں گے۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں