پاکستان:یونان میں تارکینِ وطن کے کشتی حادثے میں مبیّنہ کردار پرمزید سات افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان میں حکام نے گذشتہ ہفتے یونان کے قریب تارکین وطن کی ایک کشتی کے ڈوبنے کے بعد انسانی اسمگلنگ کے ایک گروہ میں شامل مزید سات مبیّنہ اہم افراد کوگرفتار کرلیا ہے۔اس حادثے میں پاکستانیوں سمیت 500 سے زیادہ تارکین وطن لاپتا ہو گئے تھے۔

پولیس نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ گروہ پاکستانیوں کو یورپ اسمگل کرنے میں ملوث تھا اور یہ گرفتاریاں گذشتہ دو روز میں اسمگلروں کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کے حصے کے طور پر کی گئی ہیں۔

پاکستان میں گذشتہ چند روز کے دوران میں 30 دیگر مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے اسمگلنگ کی سرگرمیوں میں سہولت کاری میں ان کے کردار کے حوالے سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔

پولیس نے بدھ کے روز بھی ملک بھر میں چھاپا مارکارروائیوں کاسلسلہ جاری رکھا تاکہ تارکین وطن کی کشتی کے حادثے میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کیا جا سکے۔ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں روپوش ہونے والے اسمگلروں کا سراغ لگانے میں مقامی پولیس کی مدد کر رہی ہیں۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بہتر زندگی کی امید میں یورپ کا خطرناک سفر کرنے کی کوشش کرنے والوں میں سے ہر ایک نے انسانی اسمگلروں کو 5،000 سے 8،000 ڈالر(23لاکھ روپے) تک رقم ادا کی تھی۔

14جون کو یونان کے ساحل پر ڈوبنے والی کشتی بحیرہ روم (بحرمتوسط) میں تارکین وطن کو پیش آنے والے بدترین حادثوں میں سے ایک ہے۔ اس پرسوار750 افراد میں صرف 104 افراد زندہ بچ سکے۔ان میں مصری، پاکستانی، شامی اور فلسطینی شامل ہیں اور 82 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

بدھ کے روز پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسمگلنگ کے گروہوں کو ختم کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اسمگلروں کا سراغ لگانے اورانھیں گرفتار کرنے میں انٹرپول اور دیگر ممالک کی مدد حاصل کرے گا تاکہ سمندر میں مزید سانحات کی روک تھام کی جا سکے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کشتی پر کتنے پاکستانی سوار تھے اور اب بھی لاپتا ہیں۔اس کشتی پر سوار پاکستانیوں کے 150 رشتہ داروں نے برآمد شدہ لاشوں کے حوالے سے ڈی این اے کے نمونے دیے ہیں۔

یونانی حکام پر تارکین وطن کو بچانے کے لیے فوری اقدامات نہ کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے اور اس بنا پر ہلاک اور لاپتا پاکستانیوں کے لواحقین میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ادھرایتھنز میں حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں نے مدد لینے سے انکار کر دیا تھا اور اٹلی جانے پر اصرار کیا تھا۔انھوں نے مزید کہا کہ کشتی سے سیکڑوں غیرقانونی افراد کو نکالنے کی کوشش بہت خطرناک ہوتی۔

اس حادثے میں زندہ بچ جانے والوں نے پانچ روزہ سفر کے دوران میں چونکا دینے والے حالات بیان کیے۔ زیادہ تر مسافروں کو کھانا اور پانی دینے سے انکار کر دیا گیا تھا اور جو لوگ عملہ کو سوار ہونے کے لیے رشوت نہیں دے سکے تھے،انھیں ڈیک لیول تک پہنچنے کی کوشش کے دوران میں مارا پیٹا گیا تھا۔زندہ بچ جانے والے کچھ پاکستانیوں نے بھی فون پراپنے اہل خانہ کے ساتھ گفتگو میں اسی طرح کی تفصیل بیان کی ہے۔

تارکینِ وطن کی کشتی بحیرہ روم کے سب سے گہرے حصے کے قریب ڈوب گئی تھی جہاں 17,000 فٹ (5،200 میٹر) کی گہرائی ڈوبنے والی کشتی کی تلاش میں کسی بھی کوشش میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ گذشتہ ہفتے کے دوران میں زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کرنے کی امید دم توڑ گئی۔

انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اسمگلنگ کے خلاف یورپی یونین کے کریک ڈاؤن نے لوگوں کو محفوظ ممالک تک پہنچنے کے لیے طویل،زیادہ دشوارگذار اور خطرناک راستے اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں