’ارب پتی شہزادہ داؤد کا بیٹا سلیمان "ٹائٹن" آبدوز کے سفر سے "خوفزدہ" تھا‘

سلیمان ’فادر ڈے‘ منانے آیا تھا۔ وہ اس مہم جوئی میں صرف اپنے والد کی وجہ سے شریک ہوا تھا: داؤد کی ہمشیرہ کے انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بحر اوقیانوس کے گہرے پانیوں میں پراسرار طور پرتباہ ہونے والی سیاحتی آبدوز ’ٹائٹن‘ پر سوار مسافروں میں پاکستانی نژاد شہزادہ داؤد اور ان کا صاحب زادہ انیس سالہ سلیمان داؤد اوران کے دیگر ساتھیوں کی ناگہانی موت سے ہرآنکھ اشک بار ہے۔

اخبار ’انڈیپنڈنٹ‘ کے مطابق پاکستانی کاروباری ٹائیکون شہزادہ داؤد کی ہمشیرہ نے انکشاف کیا ہے کہ اس کا بھتیجا سلیمان اس خطرناک مہم جوئی سے خوفزدہ تھا۔

جمعرات کو امریکی کوسٹ گارڈ نے اعلان کیا کہ اسے ٹائیٹینک جہاز کے ملبے کے قریب آبدوز کا ملبہ ملا ہے جو 5 افراد کو ٹائٹینک کے سفر پر لے جانے والی آبدوز ہی کا ہوسکتا ہے۔

سمندر میں غوطہ لگانے کے کچھ ہی دیر بعد اس آبدوز سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا جس کے بعد اس میں سوار افراد کے بارے میں تشویش پائی جا رہی تھی۔ پانچ دن کے مسلسل سرچ آپریشن کے بعد جمعرات کی شام کو آبدوز کے حادثے اور اس میں سوار تمام افراد کی موت کا اعلان کیا گیا۔

آبدوز ٹائٹن کے متاثرین
آبدوز ٹائٹن کے متاثرین

المناک پیش رفت کے اعلان سے پہلے شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں ارب پتی شہزادے داؤد کی بہن عزمی داؤد نے’ NBC‘ کو بتایا کہ میرا بھتیجا اس سفر سے مکمل طور پر خوفزدہ تھا۔ وہ صرف اس لیے جانے پر راضی ہوا کیونکہ یہ اس کے والد کے لیے اہم تھا جو "ٹائٹینک کے جنون میں مبتلا تھے۔ سلیمان نے مبینہ طور پر اپنے خاندان کے افراد کو بتایا تھا کہ وہ اس دورے کے بارے میں فکر مند ہیں ، خوش دلی سے اس مہم پر جانے کو تیار نہیں ہیں۔"

سلیمان کی پھوپھی نے مزید کہا کہ یہ سفر ویک اینڈ پر فادرز ڈے منانے کے لیے تھا اور سلیمان اپنے والد کو خوش کرنے کے خواہشمند تھے۔

عزمی داؤد نے کہا کہ "مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں واقعی کسی بری فلم کے واقعات کو دیکھ رہی ہوں۔ مجھے ان کے بارے میں سوچتے ہوئے اپنی سانس بند ہوتے محسوس ہوتی ہے "۔

انہوں نے کہا کہ "مجھے کوئی ایک ملین ڈالربھی دے تب بھی" میں "ٹائٹن" میں داخل نہیں ہوں گی۔ جب امریکی کوسٹ گارڈ نے بتایا کہ آبدوز کا ملبہ مل گیا ہے تو یہ میرے لیے بہت بڑا صدمہ تھا "۔

انہوں نے کہا کہ "مجھے بُرا لگتا ہے کیونکہ پوری دنیا کو اتنے صدمے اور اتنے سسپنس سے گذرنا پڑا۔"

سانحے سے پانچ سال پہلے ایک سینیر ملازم نے ٹائٹن کے بارے میں حفاظتی خدشات کا اظہار کیاتھا۔ سنہ 2018ء میں اوشین گیٹ نے بحریہ کے آپریشنز کے ڈائریکٹر ڈیوڈ لاکریج کو برطرف کرتے ہوئے ان پر اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور کہا کہ انہوں نے آبدوز کے ڈیزائن کے بارے میں دو لوگوں کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ امور ی خفیہ معلومات شیئر کی تھیں۔

تاہم لاکریج نے ایک مقدمے میں وضاحت کی کہ انہیں حفاظت سے متعلق معلومات کو ظاہر کرنے پر "برطرف" کیا گیا تھا۔

دوسری طرف امریکی کوسٹ گارڈ ایڈمرل جان ماؤگر نے صحافیوں کو بتایا کہ کینیڈا کے ایک بحری جہاز سے بھیجی گئی ایک خودکار گاڑی جو گہرائی میں غوطہ لگا سکتی ہے نے کل سمندر کی تہہ پر واقع آبدوز "ٹائٹن" سے ایک "ملبے کا کچھ حصہ دریافت کیا۔ یہ ملبہ ٹائیٹینک سے تقریباً 488 میٹردور ہے۔

امریکا میں قائم اوشین گیٹ مہمات کے زیر انتظام ٹائٹن نے اتوار کی صبح دو گھنٹے کے سفر پر روانہ کیا لیکن تقریباً ایک گھنٹہ 45 منٹ بعد اس کا سپورٹ ویسل سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

کوسٹ گارڈ کے حکام نے 6.7 میٹر لمبی آبدوز "ٹائٹن" کے ملبے کے 5 بڑے حصوں کی دریافت کا اعلان کیا ہے جن میں ٹیل کون اور آبدوز کے ہل کے دو حصے بھی شامل ہیں۔ تاہم کوسٹ گارڈ نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اس مقام پر انسانی باقیات دیکھی گئی ہیں یا نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں