فوجی عدالتوں کے مقدمے میں حکومت کا جج پر اعتراض، سات رُکنی بینچ ٹوٹ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سپریم کورٹ میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کا لارجر بینچ ایک بار پھر ٹوٹ گیا، جسٹس منصور علی شاہ نے خود کو 7 رکنی بینچ سے الگ کر تے ہوئے کہا ہے کہ کوئی ایک انگلی بھی اٹھا دے میں پھر کبھی اس بینچ کا حصہ نہیں رہتا ۔

پیر کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں7 رکنی بینچ نے درخواستوں پر سماعت کا آغاز کیا، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بینچ کا حصہ تھے۔

سماعت کے آغاز پر وفاقی حکومت نے جسٹس منصور علی شاہ کے بینچ میں شامل ہونے پر اعتراض اٹھا دیا، اٹارنی جنرل نے روسٹرم پر آ کر بینچ کے حوالے سے وفاقی حکومت کی ہدایات سے عدالت کو آگاہ کیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک درخواست گزار جسٹس منصور علی شاہ کے رشتہ دار ہیں، اس لئے ان کے کندکٹ پر اثر پڑ سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کی خواہش پر بینچ نہیں بن سکتے، آپ کس بات پر اس عدالت کے معزز جج پر اعتراض اٹھا رہے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ میرا ذاتی طور پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ میں نے تو پہلے ہی دن آ کر کہا تھا کسی کو کوئی اعتراض ہے تو بتا دیں۔ دریں اثنا جسٹس منصور علی شاہ نے خود کو 7 رکنی بینچ سے الگ کر لیا، جس کے نتیجے میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت کے لیے تشکیل کردہ 9 رکنی لارجر بینچ ٹوٹنے کے بعد 7 رکنی بینچ بھی ٹوٹ گیا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ مفادات کے ٹکراؤ پر اعتراض اٹھا رہے ہیں، آپ ایک بہت اچھے کردار اور اچھی ساکھ کے مالک وکیل ہیں، ایک پوری سیریز ہے جس میں بینچ پر بار بار اعتراض اٹھایا جا رہا ہے، پہلے یہ بحث رہی کہ پنجاب الیکشن کا فیصلہ 3 ججوں کا تھا یا 4 کا، جواد ایس خواجہ صاحب ایک درویش انسان ہیں، آپ ایک مرتبہ پھر بینچ کو متنازع بنا رہے ہیں۔

دوران سماعت شعیب شاہین نے کہا کہ یہ کسی کا ذاتی کیس نہیں یہ بنیادی حقوق کا کیس ہے جبکہ حامد خان نے ججز سے کیس سننے کی استدعا کی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ سمجھنے کی کوشش کریں، یہ ججز کا اپنا فیصلہ ہے، میں یہ کیس نہیں سن سکتا۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ میں اپنا کنڈکٹ اچھی طرح جانتا ہوں، کوئی ایک انگلی بھی اٹھا دے میں پھر کبھی اس بینچ کا حصہ نہیں رہتا۔ حامد خان نے کہا کہ اس موقع پر اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اب معزز جج خود ہی معذرت کر چکے ہیں۔

اس دوران فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ جسٹس ایم آر کیانی نے اپنے طلبہ سے مذاق میں ایک بات کہی تھی، انہوں نے کہا تھا کیس ہارنے لگو تو بینچ پر اعتراض کر دو، وفاقی حکومت اب یہی کر رہی ہے۔

دریں اثنا عدالتی عملے کی جانب سے فریقین کے لیے جاری ہدایت میں کہا گیا کہ بینچ دوبارہ آئے گا، چیف جسٹس نیا بینچ تشکیل دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں