اسرائیل میں ملازمت کرنے والے پانچ پاکستانی گرفتار: ایف آئی اے

’’گرفتار کیے جانے والے ملزمان چار سے سات سال تک اسرائیل کے شہر تل ابیب میں مقیمــ رہے جہاں وہ بطور ہیلپر اور کار واشر ملازمت کر رہے تھے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل میں ملازمت اختیار کرنے والے پانچ پاکستانی ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔

ایف آئی اے کرائم سرکل میرپور خاص کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق ایک ’بڑی کارروائی‘ میں پانچ ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف آٹھ مختلف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

بیان کے مطابق گرفتار کیے جانے والے ملزمان چار سے سات سال تک اسرائیل کے شہر تل ابیب میں مقیم رہے جہاں وہ بطور ہیلپر اور کار واشر ملازمت کر رہے تھے۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اسرائیلی ایجنٹ کے ذریعے انٹری حاصل کی تھی جس کے لیے فی کس تین سے چار لاکھ روپے رقم ادا کی گئی تھی۔

گرفتار ملزمان کی شناخت نعمان صدیقی، کامل انور، کامران صدیقی، محمد ذیشان اور محمد انور کے طور پر ہوئی ہے جن کا تعلق صوبہ سندھ کے شہر میرپور خاص سے ہے۔

معاصر ویب گاہ انڈیپنڈنٹ اردو نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملزمان شینگن ویزے پر اردن ایئرپورٹ سے اسرائیل میں داخل ہوتے تھے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان ویسٹرن یونین سے پاکستان پیسے بھیجتے رہے ہیں۔

ملزمان ترکی، کینیا اور سری لنکا کے راستے سے بھی اردن ایئرپورٹ پہنچ کر اسرائیل میں داخل ہوتے رہے ہیں جبکہ پاکستان واپسی کے لیے دبئی کے راستے اردن ایئرپورٹ سے ہی کراچی آتے تھے۔

ملزمان کے خلاف پاسپورٹ ایکٹ مجریہ 1974 اور امیگریشن آرڈیننس مجریہ 1979 کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو فلسطین کے حق میں نہ صرف اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ اپنے شہریوں کو اسرائیل جانے سے قانونی طور پر روکنے کے لیے پاکستانی پاسپورٹ پر یہ عبارت بھی درج ہے کہ ’یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے دنیا کے تمام ممالک کے لیے کار آمد ہے۔‘

جب پاکستان کے پاسپورٹ پر اسرائیل کے سفر کی اجازت نہیں، تو ایسی صورت میں اسرائیل کا سفر کرنا ایک غیر قانونی اقدام ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ اپنے متعدد بیانات میں کہہ چکی ہے کہ ’پاکستان فلسطینی عوام اور فلسطینی کاز کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور مشرقی بیت المقدس کے ساتھ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر آزاد ریاست فلسطین کے قیام کا مطالبہ کرتا ہے۔‘

پاکستان کی حکومت کا موقف ہے جب تک 1967 سے قبل کی حدود میں آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی تب تک اسرائیل سے روابط استوار نہیں ہو سکتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں