یونان کشتی حادثے میں لاپتا ہونے والے تارکین وطن کے لواحقین پیاروں کی لاشوں کے متلاشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

پاکستان سے تعلق رکھنے والے مطلوب حسین گذشتہ ماہ یونان میں ہونے والے بحری جہاز کے مہلک حادثے کے دوران جب سے لاپتا ہوئے ہیں، تب سے ان کے بھائی عادل نے ایتھنز میں واقع اپنے گھر کا دروازہ اس امید پر کھلا چھوڑ دیا ہے کہ وہ لوٹ آئے گا۔ اب یہ دروازہ اس کی لاش ملنے تک کھلا رہے گا۔

43 سالہ مطلوب پاکستان، شام، اور مصر سے تعلق رکھنے والے ان سینکڑوں تارکین وطن میں شامل ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ ان کا پرہجوم فشنگ ٹرالر پائلوس ساحل پر بین الاقوامی پانیوں میں ڈوب گیا۔ یہ ٹرالر 14 جون کو لیبیا سے اٹلی کے لیے روانہ ہوا تھا۔

کل تعداد میں 104 مردوں کو بچایا گیا جبکہ 82 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ لیکن چونکہ زندہ بچ جانے والوں سے بات کر کے معلوم ہوا ہے کہ جہاز میں تقریباً 750 افراد سوار تھے، تو کئی خاندان حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ جہاز کے ملبے کو سمندر کی تہہ سے اٹھایا جائے اور ممکنہ طور پر بڑی تعداد میں وہاں پھنسی ہوئی لاشوں کو نکالا جائے۔

"انہیں اندر موجود لوگوں کو نکالنا چاہیے۔ اگر وہ مر چکے ہیں، تو انہیں باہر نکالیں،‘‘ عادل حسین نے یونان کی حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان لاشوں کی بازیابی کے لیے ایک جہاز کرایہ پر لے لیا جائے۔"ہم اپنے گھر بیچ دیں گے، ادھار لے لیں گے، اگر ریاست پیسہ خرچ نہیں کر سکتی تو۔ بس مجھے لاش دے دو۔"

یونان کے حکام نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ جہاز 5000 میٹر کی گہرائی میں ڈوبا تھا اور اتنی زیادہ گہرائی سے اس کے ملبے کی بازیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔

حسین نے بتایا کہ زندہ بچ جانے والا ایک شخص ان کے بھائی کو پہچانتا تھا، اس کے مطابق ان کے بھائی کو جہاز کے عرشے کے زیریں حصے میں دیگر کئی افراد کے ساتھ ریفریجریٹر میں گھسایا ہوا تھا۔

"میری والدہ، والد، بھابی — ہم سب جاننا چاہتے ہیں کہ وہ مر گیا ہے یا زندہ ہے۔ اگر ہمیں اس کی لاش نہ ملی تو ہم عمر بھر کے لئے دروازہ کھلا چھوڑ دیں گے،‘‘ انہوں نے روتے ہوئے کہا۔ "میں یونان میں اپنے بھائی کا انتظار کروں گا۔"

حسین نے خود ترکی کے راستے 2007ء میں ایک خطرناک سفر کیا جس کے بعد سے وہ ملک میں ایک مالی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

لاپتا افراد کے اہل خانہ کی نمائندگی کرنے والے وکلاء جمعرات کو عدالتی حکام سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو کشتی کی بازیابی کے کیس کی تفتیش کر رہے ہیں۔

یہ ایک بنیادی فریضہ ہے ان متأثرین کی (دل جوئی) کے لیے جو سمندر کی تہہ میں ہیں، ان کے خاندانوں کے لیے اور ان کے عزیزوں کے خاندانوں کے لیے،'' یہ بات چار پاکستانی خاندانوں کی نمائندگی کرنے والے وکیل، تاکیس زوٹوس نے رائٹرز کو بتائی۔

لاپتا ٹائٹین آبدوز اور اس کے ارب پتی مسافروں کے لیے شروع کیے گئے مہنگے ریسکیو آپریشن کے مقابلے میں تارکینِ وطن کی کشتی کے ملبے کی بازیابی میں عدم دلچسپی پر زوٹوس نے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ (دونوں واقعات کے حوالے سے) یہ تفریق اور امتیاز "حیرت انگیز" تھا۔

"اگر ہم لوگوں کا موازنہ اکائیوں کے طور پر کریں، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم 600 کے مقابلے میں صرف پانچ کے بارے میں بات کر رہے ہیں،" انہوں نے کہا۔

"لیکن ان کی بدنصیبی اور بدحالی دیکھیں کہ وہ زمین کے نیچے (سمندر میں) دبے پڑے ہیں۔ انہیں بھی بحیرہ روم کے گہرے ترین حصے میں جہاز کے تباہ ہونے کی بدقسمتی (دیکھنے کو) ملی۔

ٹائٹین آبدوز کا ملبہ تلاش کرنے کے لئے گہرے سمندر میں غوطہ لگانے والی ایک روبوٹک گاڑی کی مدد لی گئی جو بحر اوقیانوس کی سطح سے 3000 میٹر سے بھی زیادہ گہرائی تک بھیجی گئی۔ گزشتہ ہفتے انسانی باقیات سمندر کی تہہ سے برآمد ہوئی تھیں۔

شناخت کا انتظار کریں

مطلوب دو بھائیوں میں سے پہلا تھا جس نے 2005ء میں یونان ہجرت کی لیکن کئی برسوں تک قانونی دستاویزات کے بغیر رہنے کے بعد وہ دو سال قبل پاکستان واپس آ گیا۔ اس نے دوبارہ باہر جانے کے لیے جدوجہد کی اور اس بار اٹلی جانے کا فیصلہ کیا، اس نے سفر کے اخراجات کے لیے دوستوں سے 7,000 ڈالرز ادھار لیے۔

حسین اپنے خاندان کے افراد کو تاکید کرتا ہے کہ غیر قانونی طور پر یہاں نہ آئیں۔ حالانکہ وہ اسے بتاتے ہیں کہ ان کے پاس پاکستان میں کھانے کو روٹی یا کرنے کو کام نہیں ہے۔ "میں کہتا ہوں یہی بہتر ہے- آپ زندہ تو ہیں ناں۔ اس طرح آؤ گے تو مر جاؤ گے۔ اور اگر تم مر گئے تو سب مر جائیں گے۔‘‘

اب تک ڈی این اے کے تقریباً 350 نمونے یونان میں موجود یا بیرونِ ملک مقیم رشتہ داروں سے لیے گئے ہیں جن میں سے زیادہ تر پاکستان سے ہیں۔ یہ بات ایک سینئر اہلکار نے رائٹرز کو بتائی جو ڈی این اے ٹیسٹ میں عمل میں شامل ہیں۔

اس اہلکار کے مطابق، اب تک 82 میں سے صرف 20 لاشوں کی شناخت ہوئی ہے، جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ یونانی قانون کے تحت یہ تحقیقات خفیہ ہیں۔

یونانی حکومت شناختی عمل کی پیشرفت پر تبصرہ کرنے کے لیے فوری طور پر دستیاب نہیں تھی۔

جہاز کے ڈوبنے کی وجوہات کی تاحال تحقیقات جاری ہیں۔ زندہ بچ جانے والوں نے کہا ہے کہ یونانی کوسٹ گارڈ نے جہاز کو پیچھے کھینچنے کی کوشش کی جو تباہ کن ثابت ہوئی اور وہ الٹ گیا، لیکن یونان اس بات سے انکار کرتا ہے۔

کوسٹ گارڈ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ کشتی ڈوبنے کے تین ہفتے بعد، تلاش کا عمل اب بنیادی طور پر تجارتی جہازوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے جنہیں یونانی حکام نے علاقے کی نگرانی کے لیے کہا ہے۔ متاثرین کی لاشیں فریج میں رکھی ہیں۔ چیف کورونر نے رائٹرز کو بتایا۔

حسین ابھی تک یہ سننے کے منتظر ہیں کہ آیا اس کا ڈی این اے بھائی کی لاش سے میچ ہوا ہے یا نہیں۔

پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ایک اہلکار، عالم شنواری نے بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ ہفتے ہلاک شدگان کے اہل خانہ کے ڈی این اے کے 200 سے زائد نمونے یونان بھیجے ہیں اور مزید جمع کیے جائیں گے۔ پاکستان نے ان کے فنگر پرنٹس بھی بھیجے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان، ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ یونانی حکام کی جانب سے تصدیق اور حوالگی کے بعد لاشوں کو پاکستان پہنچایا جائے گا۔

55 سالہ محمد ایوب کا 28 سالہ بھائی، محمد یاسین کشتی پر سوار تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ بھائی کی لاش کی شناخت ان کے دو چھوٹے بچوں کے ڈی این اے نمونے دینے کے بعد ہو جائے گی۔

"کم از کم ہمیں اس کی قسمت کا علم ہو جائے گا یا اس کی لاش ہی واپس مل جائے تاکہ ہم اس کے بچوں کو بتا سکیں کہ آپ کے والد ایک حادثے کا شکار ہوئے تھے، یہ ان کی قبر ہے۔" انہوں نے کہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں