سویڈن واقعے کے خلاف پاکستان کے طول وعرض میں یومِ تقدیسِ قرآن منایا گیا

قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج اور ریلیاں نکالی گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف نماز جمعہ کے بعد ملک بھر میں یومِ تقدسِ قرآن منایا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ملک بھر میں سرکاری و غیر سرکاری سطح پر ہر طبقہ فکر سے وابستہ افراد سویڈن میں عراقی شہری کے ہاتھوں قرآن پاک نذر آتش کیے جانے کے واقعے کی شدید مذمت کی۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سویڈن میں قرآن کی بے حرمتی کے خلاف قرارداد منظور کی گئی تھی اور جمعے کو ’یوم تقدیس قرآن‘ منانے کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے ملک بھر میں احتجاج اور ریلیاں نکالنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

وفاقی وصوبائی دارالحکومتوں کے علاوہ ملک کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں جب کہ سیاسی وسماجی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے بھی سویڈن میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے خلاف ملک گیر مظاہرے کیے گئے، سویڈن واقعے کے خلاف سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک مذمتی قرارداد منظور کی گئی ہے۔

لاہور میں بھی ریلیاں نکالی گئیں جہاں جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چند شیطان صفت لوگ اسلامی شعار و قرآن سے عداوت اور نفرت کرتے ہیں لیکن امت مسلمہ نے ہر دور میں قرآن اور حرمت رسول سے اپنا تعلق مضبوط رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی اور بادشاہوں، جرنیلوں اور سیاسی قیادت سے پوچھتا ہوں تم نے سویڈن کے سفیروں کو باہر کیوں نہ نکالا واپس کیوں نہ بلایا امت سوال کرتی ہے۔

جماعت اسلامی لاہور کے امیر ضیاء الدین نے احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمران اتحاد نے اس واقعے پر صرف قومی اسمبلی میں ایک مذمتی قرارداد منظور کی ہے۔

حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا اجلاس طلب کیا جائے اور سویڈن کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے، انہوں نے مظاہرین سے سویڈن کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔

ادھر گجرات میں سویڈن واقعے کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں شرکا نے سویڈن واقعے کے خلاف مذمتی پلے کارڈ، بینرز اٹھا رکھے تھے۔

مذہبی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاج کیا اور اس موقع پر مظاہرین نے کہا کہ سویڈن میں قرآن کی بے حرمتی سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سویڈن کے سفیر کو طلب کرکے پاکستان کی طرف سے بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایا جائے۔

بلوچستان میں کوئٹہ کے علاوہ چاغی اور ڈیرہ بگٹی میں بھی مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور نعرے لگائے۔ دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ بار ایسویسی ایشن نے بھی سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے پر حکومت سے سفارتی سطح پر اس مذموم سازش کا مقابلہ، سفارتخانہ بند کرنے اور مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف مقامات پر احتجاجی ریلیوں میں سویڈن واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔

کراچی میں بھی مذہبی جماعتوں اور شہریوں کی جانب سے نماز جمعے کے بعد ریلیاں نکالی گئیں۔ بولٹن مارکیٹ، ایم اے جناح روڈ، داؤد چورنگی اور دیگر علاقوں میں مظاہرین سڑکوں پر نکلے اور نعرے لگائے، جس کے نتیجے میں شہر میں ٹریفک جام ہوا۔

تاجر تنظیموں کی جانب سے نماز جمعہ کے بعد کراچی میں احتجاج کے طور پر 2 گھنٹوں کے لیے کاروبار بند رکھا۔ آل کراچی تاجر اتحاد کی جانب سے احتجاجی ریلی میمن مسجد سے ٹاور تک نکالی گئی جس میں شرکا نے سویڈن حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

ادھر خیبرپختونخوا میں ضلع شانگلہ میں بھی ریلیاں نکالی گئیں، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پاکستان مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی سمیت دیگر جماعتوں نے بشام، کارورا، الپوری، پوران اور چاکیسر میں احتجاج کیا۔

بٹگرام میں ختم نبوت چوک پر احتجاج کے دوران پی ٹی ائی کے رہنما ایمل شاہ شیرازی، غلام اللہ، عجب خان اور دیگر نے مظاہرین سے خطاب کیا انہوں نے کہا کہ قرآن پاک کی بے حرمتی برداشت نہیں کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فعل کی بنیادی وجہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنا تھا۔

رہنماؤں نے کہا کہ یورپ میں اس طرح کے واقعات مسلسل پیش آرہے ہیں، ضروری ہے کہ یورپی ممالک ان واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کریں۔ مظاہرین سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ یہ ممالک آزادی اظہار اور مسلمانوں کے مذہبی عقائد سے چھیڑ چھاڑ کے درمیان لکیر کھینچیں اور سویڈن کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ گذشتہ ہفتے قرآن پاک کو نذر آتش کرنے والے ملزم کے خلاف کارروائی کرے۔

علاوہ ازیں مسلم لیگ ن منارٹی ونگ کے مرکزی صدر اور پاکستان مسیحی کونسل پاکستان کے صدر سینیٹر کامران مائیکل نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ سویڈن میں قرآن پاک کی بےحرمتی کا واقعہ ناقابل قبول ہے۔ پاکستان کے مسیحی اس واقعے کے خلاف احتجاج میں بھرپور شریک ہیں اور مذمت کرتے ہیں۔

دریں اثنا ملک کے مختلف شہروں میں مسیحی برادری اور ان کے مذہبی رہنماﺅں نے سویڈن واقعے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ اس سلسلے میں جاری بیانات میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس گھناﺅنے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ آئندہ اس قسم کے واقعات عمل میں نہ آئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں