موسمیاتی خطرات سے دوچار ملکوں کی مدد کی جائے: اماراتی وزیر، شہباز شریف سے ملاقات

پاکستان اور امارات کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط، عالمی موسمیاتی کانفرنس ’’ COP28‘‘ کے نامزد سفیر شیری رحمٰن سے بھی ملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

موسمیاتی تبدیلی سے متعلق 28 ویں عالمی کانفرنس ’’ COP28 ‘‘ کے نامزد صدر اور یو اے ای کے وزیر نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔ امارات میں منعقد ہونے والی ’’ COP28‘‘ کے نامزد صدر سلطان الجابر نے اپنی عالمی مصروفیت کے ایک حصے کے طور پر اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ اس موقع پر سلطان الجابر نے موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن نتائج کا سامنا کرنے والے ترقی پذیر ملکوں کے لیے زیادہ سے زیادہ تعاون پر زور دیا۔

سلطان الجابر متحدہ عرب امارات کی قومی تیل کمپنی کے سربراہ بھی ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات میں ’’یو این فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج‘‘ کے تحت اس سال نومبر میں منعقد ہونے والی 28 ویں کانفرنس کے ایجنڈے سے منسلک ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا۔ ’’ COP28‘‘ کے عنوان سے یہ کانفرنس دبئی میں منعقد کی جارہی ہے۔

کانفرنس کے ایجنڈے میں موسمیاتی مالیات اور آپریشنلائزیشن کے لیے ایک مضبوط ردعمل کی تشکیل، 2030 تک قابل تجدید توانائی کی صلاحیت میں تین گنا اضافہ، موسمیاتی موافقت اور لچک جیسے عنوانات شامل ہیں۔

سلطان الجابر نے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات کی وزیر شیری رحمٰن سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں موسمیاتی تبدیلیوں سے منسلک انتہائی موسمی واقعات سے پاکستان کو لاحق خطرے پر گفت و شنید کی گئی۔

واضح رہے نومبر میں مصر میں منعقد ہونے والی ’’COP27‘‘ میں ایک تاریخی معاہدہ کیا گیا تھا جس میں "نقصان اور تباہی" فنڈ قائم کیا گیا تاکہ اس تباہی کے اخراجات کو پورا کیا جا سکے جس کا سامنا ترقی پذیر ممالک کو آب و ہوا سے منسلک قدرتی آفات سے ہوتا ہے۔

واضح رہے گزشتہ برس پاکستان میں خوفناک سیلاب آیا تھا جس نے ملک کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اسی طرح مشرقی افریقہ میں خشک سالی آگئی تھی۔

سلطان الجابر نے کہا تباہ کن سیلابوں نے کم از کم 30 ملین افراد کو متاثر کیا اور اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی اور انفراسٹرکچر کی تباہی سے بڑا معاشی نقصان ہوا ہے۔

سلطان الجابر نے کہا کہ "COP28‘‘ میں دنیا کی توجہ لوگوں کی ضروریات اور امیدوں پر مرکوز ہونی چاہیے۔ متاثر ہونے والوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور ہمیں ان کے مطالبات کا جواب پھرپور عزم اور عمل کے ساتھ دینا چاہیے۔

انہوں نے توانائی کی منصفانہ منتقلی کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی۔ اس موقع پر ’’ COP28 ‘‘ کے صدر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی موجودگی میں امارات کی وزارت توانائی اور پاکستانی حکومت کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ یہ ایم او یو میں پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی ترقی اور سرمایہ کاری سے متعلق ہے۔

مفاہمتی یادداشت پر متحدہ عرب امارات کی وزارت توانائی اور انفراسٹرکچر کے انڈر سیکرٹری شریف العلما اور وزارت توانائی کے وفاقی سیکرٹری راشد محمود لنگڑیال نے دستخط کئے۔

الجابر نے کہا ہمیں آج کے توانائی کے نظام کو ڈیکاربونائز کرتے ہوئے مستقبل کا توانائی کا نظام بنانا چاہیے۔ اس میں قابل تجدید ذرائع کو تین گنا کرنا اور توانائی کی کارکردگی اور ہائیڈروجن کی پیداوار دونوں کو دوگنا کرنا شامل ہے۔ ہمیں 2030 تک خالص صفر میتھین کے اخراج کو بھی حاصل کرنا ہوگا اور 2050 تک خالص صفر کاربن کے اخراج کو پورا کرنا ہوگا۔

اپنے دورے کے دوران الجابر نے پاکستان فارن سروس اکیڈمی میں بھی خطاب کیا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے پیرس معاہدے کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے دنیا کو دوبارہ ٹریک پر لانے کے لیے کورس کی اصلاح کی ضرورت پر زور دیا۔

الجابر کے ساتھ موجود امارات ہلال احمر کے سیکرٹری جنرل حمود الجنیبی نے پاکستان میں انسانی ضروریات کو پورا کرنے کی اہم ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر سلطان الجابر نے توانائی کی صنعت پر زور دیا کہ وہ صاف توانائی کے نظام کی تعمیر کی طرف اپنے اقدامات کو بڑھائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں