پانچ سو ملین ڈالر کی سعودی امداد سے پاکستان میں زرعی ترقی کے فروغ کا اعلی مرکز قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان نے نو ملین ہیکٹر سے زیادہ غیر کاشت شدہ سرکاری اراضی کو استعمال کرتے ہوئے جدید زرعی کاشتکاری کو بڑھانے کے لیے ایک لینڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ سسٹم، سینٹر آف ایکسیلینس قائم کیا ہے۔ سعودی عرب نے اس سہولت کے قیام کے لیے ابتدائی 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری فراہم کی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس سینٹر آف ایکسیلینس (ایل آئی ایم ایس) کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی بھی موجود تھے۔

جمعے کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق 36.9 فیصد پاکستانی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور ان میں سے 18.3 فیصد کو خوراک کے شدید بحران کا سامنا ہے

عرب نیوز کے مطابق لینڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ سسٹم، سینٹر آف ایکسی لینس کے سربراہ میجر جنرل شاہد نذیر نے ایک بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ اس مرکز کے قیام کے لیے "جہاں تک اعلیٰ کارکردگی والے آبپاشی کے نظام کا تعلق ہے، سعودی عرب پہلے ہی ہمیں [پاکستان] کو 500 ملین ڈالر دے چکا ہے۔"

"نو ملین ہیکٹر سے زیادہ غیر کاشت شدہ ویسٹ اسٹیٹ اراضی کو استعمال کرتے ہوئے جدید زرعی فارمنگ کو بڑھانے کی غرض سے، لینڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ سسٹم، سینٹر آف ایکسی لینس پاکستان آرمی کے ڈائریکٹر جنرل اسٹریٹجک پروجیکٹس کے تحت قائم کیا گیا ہے۔"

ان کے مطابق، یہ جدید ترین نظام ایک ہی چھت کے نیچے زمین، فصلوں، موسم، آبی وسائل اور کیڑوں سے نمٹنے کے بارے میں حقیقی وقت کی معلومات کے ذریعے زرعی ترقی کو آگے بڑھانے کے ذرائع میں انقلاب لائے گا۔

میجر جنرل شاہد نذیر نے کہا کہ اگلے تین سے چار روز میں سعودی عرب کا ایک اعلیٰ سطحی وفد چار بڑے شعبوں زراعت، کان کنی اور معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور دفاعی پیداوار میں اس قسم کی سرمایہ کاری کے مزید مواقع کے لیے پاکستان آ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی چھتری کے تحت کیا جائے گا جو حال ہی میں پاکستانی معیشت کی بحالی کے لیے قائم کی گئی تھی۔

پاکستان، زراعت پر مبنی معیشت ہے۔ زراعت کا جی ڈی پی میں 23 فیصد حصہ ہے اور 37.4 فیصد افرادی قوت کا روزگار اس سے وابستہ ہے، لیکن اس شعبے کو بار بار معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ فی الحال، سکڑتے ہوئے قابل کاشت رقبہ، آبادی اور پیداوار میں فرق، اور زرعی درآمدات دس بلین ڈالر کے ساتھ، پیداواری صلاحیت کم ہے۔

لاہور کے مضافات میں کسان دھان کی فصل کی بویائی میں مصروف ہیں: رائیٹرز
لاہور کے مضافات میں کسان دھان کی فصل کی بویائی میں مصروف ہیں: رائیٹرز

ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق، تقریباً 36.9 فیصد پاکستانی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جن میں سے 18.3 فیصد کو خوراک کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ ملک کو گندم کی پیداوار میں 30.8 ملین میٹرک ٹن کی کل طلب کے مقابلے میں 4 ملین میٹرک ٹن کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ گذشتہ دہائی میں کپاس کی پیداوار 40 فیصد کم ہو کر پانچ ملین گانٹھوں پر آ گئی ہے۔

میجر جنرل شاہد نذیر نے کہا کہ اس مرکز کے اہم مقاصد میں پاکستان میں خوراک کی حفاظت کو یقینی بنانا اور جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے زرعی پیداوار کو بہتر بنانا اور زمین کی زرعی ماحولیاتی صلاحیت پر مبنی درست، پائیدار زرعی طریقوں کے ذریعے دیہی برادریوں کی فلاح و بہبود اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانا شامل ہے۔

مرکز کے بنیادی مقاصد میں غیر کاشت شدہ فاضل اراضی کی بحالی، بہترین فیصلہ؛ کیا اور کہاں اگایا جائے، جدید کاشتکاری کے لیے ایک ماسٹر پلان ، جدید ترین زراعت کے انتظام کے طریقوں پر عمل درآمد، ڈیجیٹل اور درست زراعت کے لیے زرعی ذہانت کی مشق، پیداوار بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال اور فیصلہ سازی کا موثر نظام شامل ہیں" انہوں نے وضاحت کی.

یہ سینٹر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور چین کے ساتھ مل کر پاکستان کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے مختلف زرعی منصوبوں پر کام کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں