ایف آئی اے کی اسرائیل میں کام کرنے والے 5 پاکستانی شہریوں سے تفتیش

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے ویزوں اور ترسیلات زر کا پتہ لگانے کے لیے رابطے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) پانچ پاکستانی شہریوں سے تفتیش کر رہی ہے، جنہیں اس ہفتے اسرائیل میں کام کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ایف آئی اے نے جمعہ کو دیر گئے بتایا کہ اسرائیل میں ملازمت کرنے والے پاکستانیوں کے ویزوں اور ترسیلات زر کا پتہ لگانے کے لیے مختلف مقامی اور غیر ملکی حکام سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ گرفتار ہونے والے پانچ افراد تل ابیب میں سات سال تک مددگار، کار واشر کے طور پر کام کر رہے تھے۔

پاکستان اسرائیل کی ریاست کو سفارتی طور پر تسلیم نہیں کرتا اور "بین الاقوامی طور پر متفقہ اور مسلمہ ضوابط" سمیت بیت المقدس کے ساتھ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ کرتا ہے۔ سفارتی تعلقات کی عدم موجودگی کی وجہ سے پاکستانی اسرائیل کا سفر نہیں کر سکتے۔ پاکستانی پاسپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ یہ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک میں کارآمد ہے۔

ایف آئی اے نے رواں ہفتے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل میں ملازمت اختیار کرنے پر پانچ پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا تھا۔ گرفتار افراد، جن کا تعلق پاکستان کے جنوبی ضلع میرپور خاص سے ہے، پر پاکستان کے پاسپورٹ ایکٹ 1974 اور امیگریشن آرڈیننس 1979 کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی اے کے حوالے سے عرب نیوز نے بتایا کہ "کیس کی مزید پیش رفت میں، جی پی او میرپور خاص سے حاصل کردہ ریکارڈ سے انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان کی جانب سے اسرائیل سے جی پی او میرپور خاص کو 113,00,000 روپے ($41,488) کی 108 رقم کی منتقلیاں کی گئیں۔"

اس سلسلے میں قومی پرچم بردار فضائی کمپنی ’’پی آئی اے‘‘، ایمریٹس ایئر لائنز، قطر ایئر لائنز اور اتحاد ایئر ویز سے ملزمان کی جانب سے بک کیے گئے ٹکٹوں سے متعلق ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔ کینیا، سری لنکا، سوئٹزر لینڈ اور یو اے ای کے سفارت خانوں سے بھی وزارت خارجہ کے ذریعے رابطہ کیا گیا ہے تاکہ ملزموں کو جاری کیے گئے ویزوں سے متعلق ریکارڈ حاصل کیا جا سکے۔

ان افراد کی گرفتاری کے لیے آپریشن گذشتہ ماہ اس وقت شروع کیا گیا جب حکام نے ترسیلات زر کا پتہ لگایا اور ایسے ٹھوس شواہد ملے جن سے ثابت ہوا کہ وہ برسوں سے اسرائیل میں کام کر رہے تھے۔

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق “یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پانچوں ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کے علاوہ کچھ دوسرے رشتہ داروں نے بھی اسرائیل کا دورہ کیا ہے، ایسے ڈیٹا کو آئی بی ایم ایس (انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم) کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے تاکہ ملزمان کے خاندانوں کی مکمل سفری تاریخیں حاصل کی جا سکیں۔"

ایف آئی اے کے مطابق ملزمان اس وقت میرپور خاص سینٹرل جیل میں عدالتی تحویل میں ہیں۔ وہ تل ابیب میں ہیلپرز اور کار واشرز کے طور پر کام کر رہے تھے اور چار سے سات سال تک وہاں رہے۔

چونکہ پاکستانی پاسپورٹ اسرائیل میں نہیں داخل ہو سکتا تھا، اس لیے گرفتار افراد نے ایک اسرائیلی ایجنٹ کے ذریعے یہودی ریاست میں داخلہ حاصل کیا تھا، جسے فی شخص 300,000 سے 400,000 روپے ($1,090 سے $1,453) ادا کیے گئے۔ اسرائیل میں داخل ہونے کے لیے مشتبہ افراد ترکی، کینیا اور سری لنکا کے راستے اردن پہنچتے اور دبئی کے راستے اردن سے کراچی واپس آتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں