عمران خان نے حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدے کی حمایت کردی

عالمی ادارہ الیکشن سے قبل معاہدہ کے لیے حمایت حاصل کر رہا، ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 12 جولائی کو ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اپوزیشن کے مرکزی رہنما تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جمعہ کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد تحریک انصاف نے حال ہی میں حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان طے پانے والے بیل آوٹ معاہدے کی حمایت کردی۔

آئی ایم ایف کے عہدیدار پاکستان کے ساتھ طے پانے والے 9 ماہ کے بیل آؤٹ معاہدہ کے لیے الیکشن سے قبل سیاسی جماعتوں کی حمایت کرنے کے لیے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف نے حکومت کے ساتھ سٹینڈ بائے اریجمنٹ کے تحت 3 ارب ڈالر فراہم کرنے کے معاہدہ کی سٹاف لیول پر منظوری دے دی ہے۔ اس حوالے سے عالمی مالیاتی ادارے کی ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 12 جولائی کو ہو رہا ہے۔

تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ حماد اظہرنے اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعہ شرکت کی تھی۔ حماد اظہر نے ٹوئٹر پر ایک پوسٹ میں کہا کہ سابق وزیر اعظم اور ان کی اقتصادی ٹیم نے گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف اور پاکستان کی حکومت کے درمیان سٹاف لیول معاہدے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ اس تناظر میں میں ہم مجموعی مقاصد اور کلیدی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا زمان پارک لاہور میں عمران خان کی رہائش گاہ پر ہونے والی میٹنگ میں آئی ایم ایف کے حکام نے ذاتی طور پر شرکت کی جبکہ مشن چیف ناتھن پورٹر نے عملی طور پر شرکت کی۔

اس سے قبل آئی ایم ایف کے مقامی نمائندے ایستھر پیریز روئز نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملاقاتوں کا مقصد قریب آنے والے قومی انتخابات سے قبل ایک نئے آئی ایم ایف کے تعاون یافتہ پروگرام کے تحت کلیدی مقاصد اور پالیسیوں کے لیے ان کی حمایت کی یقین دہانی حاصل کرنا تھا۔

نیا معاہدہ پاکستان کی مشکلات سے دو چار 350 بلین ڈالر معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد کے لیے اہم ہوگا۔ اس معاہدے کو 12 جولائی کو آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

یہ پروگرام چار سالہ توسیعی مالیاتی سہولت پروگرام کی جگہ لے گا جس پر اصل میں خان کی حکومت نے 2019 میں دستخط کیے تھے۔ عمران خان کی حکومت کے آئی ایم ایف سے معاہدے کی مدت جون کے آخر میں ختم ہوگئی ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت گزشتہ سال پارلیمانی ووٹنگ میں معزول ہونے سے چند دن قبل آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہونے والے معاہدوں سے منحرف ہو گئی تھی۔ جس کے نتیجے میں پروگرام کے نفاذ میں تاخیر ہوئی اور معاشی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا۔ پاکستان میں اگلے الیکشن نومبر کے اوائل میں ہونے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف کا نیا پروگرام تین حکومتوں پر محیط ہو گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے تحت قائم ہونے والی موجودہ حکومت کی مدت اگست میں ختم ہو رہی ہے۔ اس کے بعد ایک نگران حکومت آئے گی اور الیکشن کے بعد ایک نئی حکومت آ جائے گی۔

پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے کہا پی ٹی آئی کا خیال ہے کہ سیاسی استحکام معیشت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے آزادانہ، منصفانہ اور بروقت انتخابات کا مطالبہ بھی کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں