پاکستان میں زرعی انقلاب آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا ویژن ہے:شہباز شریف

ملک میں 1960 کے بعد دوسرا بڑا سبز انقلاب برپا کیا جارہا ہے،آیندہ پانچ سال میں 50 ارب ڈالرز تک کی سرمایہ کاری ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں زرعی انقلاب چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سیّد عاصم منیر کا ویژن ہے۔ اس سے آیندہ پانچ سال میں 50 ارب ڈالرز تک کی سرمایہ کاری ہو گی اور چالیس لاکھ نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ہے، ملک میں 1960ء کے بعد دوسرا سبز انقلاب برپا کیا جا رہا ہے۔

وہ سوموار کو اسلام آباد میں سبز پاکستان اقدام کے تحت منعقدہ غذائی تحفظ قومی سیمی نار سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں 1960 کے بعد دوسرا بڑا سبز انقلاب لایا جا رہا ہے، پچھتر سالوں میں ایسے کئی ویژن آئے اور چلے گئے، ترقی کا راز صرف مسلسل عمل اور محنت میں مضمر ہے۔

انھوں نے کہا کہ دھرتی سے سونا نکالنے والے کسان یہاں موجود ہیں،کسان پاکستان کے کروڑوں لوگوں کو غذائی اجناس مہیا کرتے ہیں، زراعت کے لیے سازگار ماحول مہیا کرنا کسانوں کا حق ہے، حکومت کسانوں کو ہر ممکن وسائل مہیا کرے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ کسان کو مناسب قیمت ملے گی تو وہ شوق سے محنت کرے گا، پھر گندم اور کپاس کی پیداوار اچھی ہو گی، پاکستان میں ریکارڈ گندم کی پیداوار ہوئی ہے، زرعی انقلاب کے لیے صحت مند بیچ، اچھی کھاد بروقت زرعی ادویہ کی دستیابی حکومت کا فرض اور جدید ٹیکنالوجی وقت کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ فصلوں کی کیڑے مار جعلی ادویہ کی وجہ سے کسانوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اگر سول کورٹس میں جعلی ادویہ کا فیصلہ نہیں ہوتا تو پھر اس کے خاتمے کے لیے آرمی ایکٹ لاگو کرنا چاہیے، تاکہ کسان کی محنت ضائع نہ ہو، ماضی میں جب میں وزیراعلیٰ پنجاب تھا تو جعلی ادویہ کے دھندے کو ختم کر دیا تھا، یہ تمام عوامل پاکستان کو دنیا میں بہترین ملک بنا سکتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے پاک فوج کے سپہ سالار نے سبز پاکستان اقدام کی بات کی اور مشورہ دیا کہ ہمیں اس معاملے کو آگے بڑھانا ہے اور مل کر بہت بڑے ویژن کو عملی جامع پہنانا ہے جس پر میں جنرل سید عاصم منیر کا ممنون ہوں۔ اس پروگرام کی کامیابی کے لیے وفاق، صوبائی حکومتیں اور تمام ادارے بشمول تحقیقاتی مراکز کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ تحیققی مراکز کی بحالی اور ترقی کے لیے ہم ہر چیز مہیا کریں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 1960 کے بعد سارے تحقیقاتی مراکز سست روی کا شکار ہو گئے، میرٹ کو چھوڑ کر سیاسی بنیاد پر بھرتیاں ہوئیں، جس سے زراعت سمیت ملک کو نقصان ہوا اور اقربا پروری سکہ رائج الوقت بن گئی جبکہ وطن عزیز میں کوئی کمی نہیں، آج ہمیں اکٹھے ہوکر زراعت کے انقلاب کے ویژن کو آگے بڑھانا ہے، ہم سب مل کر اس ویژن کو آگے بڑھائیں گے تو پاکستان دنیا میں عظیم ملک بن جائے گا، پاکستان میں انشاءاللہ زرعی انقلاب برپا ہونے جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں بتایا کہ ملک میں ساڑھے چار ارب ڈالر مالیت کا خوردنی تیل درآمد کیا جاتا ہے، ہمیں اس کے تدارک کے لیے بھی زرعی انقلاب سے فائدہ اٹھانا ہوگا، کوشش کریں تو یہ روایتی سیمی نار ثابت نہیں ہوگا، ہم قوم کو آگے بڑھا سکتے ہیں، کمربستہ ہوگئے تو کوئی سمندر اور پہاڑ ہمارے راستے کی رکاوٹ نہیں بنے گا۔

انھوں نے کہا کہ میں، سپہ سالار اور وزیر خزانہ آپ کو نہیں بتا سکتے کہ کس طرح ہم نے منتیں اور ترلے کر کے قرض لیا، ہم مزید قرض نہیں لے سکتے۔ پاکستان کے معاشی حالات قرض سے نہیں سرمایہ کاری سے ٹھیک ہو سکتے ہیں، خلیجی ممالک سبز پاکستان اقدام میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں، کوئی بھی سرمایہ کار سیاسی حالات سازگار نہ ہونے تک سرمایہ کاری نہیں کرتا، ہم اپنے دوستوں کو یقین دلائیں گے کہ ہم پیروں پر کھڑے ہونے جا رہے ہیں تو وہ مزید ساتھ دیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ زرعی انقلاب منصوبے سے آیندہ چار پانچ سال میں پچاس ارب ڈالرز تک کی سرمایہ کاری آئے گی، چالیس لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے، ہم ان شاءاللہ دو سال میں پاکستان کو اسکا کھویا ہوا مقام دلوائیں گے۔قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی معاشی سکیورٹی کو مضبوط بنائیں اور زرعی معاش کو بہت مضبوط بنائیں۔

آرمی چیف جنرل سیّد عاصم منیر نے اس سیمی نار میں مہمان اعزازی کے طور پر شرکت کی۔ انھوں نے بھی سیمینار سے خطاب کیا اور شرکاء کو یقین دلایا کہ پاک فوج خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل) کے تحت تمام حکومتی اقدامات کی حمایت کرے گی اور گرین پاکستان انیشی ایٹو میں پاکستانی قوم کی امنگوں پر پوری اترے گی۔

سیمی نار میں وفاقی وزراء، سندھ اور پنجاب کے وزراء اعلیٰ، چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریوں، زرعی ماہرین، اعلیٰ عسکری افسروں اور ملک بھر سے کسانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔بین الاقوامی مندوبین، برطانیہ، اٹلی اسپین، چین، بحرین، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے سفارت کار اور سرمایہ کار بھی سیمی نار میں شریک تھے۔

لینڈ مینجمنٹ سسٹم کے بعد گرین پاکستان انیشی ایٹو پاکستان کی غذائی سلامتی، زرعی مصنوعات کی برآمد اور درآمدات میں کمی سے ملکی معیشت میں اپنا اہم کردار ادا کرے گا۔زراعت، ٹیکسٹائل، چمڑے اور لائیواسٹاک کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے حکومت اور پاک فوج کی زراعت کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی تعریف کی۔ ماہرین نے اس حوالے سے جدت، سرکاری اور نجی شراکت داری اور چھوٹے کسان تک معاشی فوائد پہنچانے کے اقدام کو بھی سراہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں