کم قیمت تیل کے جہازوں کے بعد، درآمدی سامان والا روس کا اولین ٹرک پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

درآمدی سامان سے لدا پہلا روسی ٹرک پاکستان پہنچ گیا ہے۔ حکام کے مطابق ٹرک کی آمد دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدے کا حصہ ہے۔ اس سے چند روز قبل اسلام آباد نے ماسکو سے سستے خام تیل کا دوسرا جہاز وصول کیا تھا۔

چنے اور دیگر سامان پر مشتمل یہ تجارتی مال جمعے کی رات طورخم کے راستے داخل ہوا۔ طورخم پاکستان اور افغانستان کی درمیانی سرحد ہے۔ یہ ٹرک، ٹرانسپورٹ انٹرنیشنل روٹ (ٹی آئی آر) کنونشن کے تحت آیا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ مواصلات، اسد محمود نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کے فروغ کے لیے مارچ میں ماسکو کا دورہ کیا تھا۔ حکام کے مطابق، اسی دورے کے موقع پر روس کے ساتھ دوطرفہ ٹی آئی آر معاہدہ طے پایا تھا۔ یہ پہلا زمینی تجارتی راستہ ہے جو 1948ء میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے آغاز ہی میں قائم کیا گیا تھا۔

پشاور کسٹمز ہیڈکوارٹر کے ایک ایڈیشنل کلکٹر، افنان خان نے اتوار کو عرب نیوز کو بتایا۔ "ٹرانسپورٹ انٹرنیشنل روٹ (ٹی آئی آر) کنونشن کے تحت روس سے درآمد کردہ یہ پہلا سامان تھا۔" "اس پہلے تجارتی قافلے کی آمد کے اعتراف کے طور پر قومی لوجسٹک سیل (این ایل سی) ٹرمینل، طورخم میں ایک چھوٹی سی افتتاحی تقریب بھی منعقد ہوئی۔"

ٹی آئی آر کنونشن، بین الاقوامی کسٹمز ٹرانسٹ کا ایک نظام ہے جو سیل شدہ کنٹینرز اور گاڑیوں کے ذریعے سامان کی منتقلی کے لیے سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ کنونشن اعلیٰ معیار کی دستاویزات اور کسٹمز کنٹرول کے باہمی توثیق شدہ عمل کو استعمال کرتے ہوئے معاہدے میں شریک ممالک کے لیے کسٹمز کے معاملات کو آسان بناتا ہے۔

کسٹمز کی ایک دستاویز، ٹی آئی آر کارنیٹ، اور سامان کے ٹرک اور گاڑیوں پر لگی ہوئی سیل، نقل و حمل کے دوران سامان کی حفاظت کو یقینی بناتی ہیں۔ 70 سے زائد ممالک اس ٹی آئی آر کنونشن میں بطورِ فریق شامل ہیں جن میں بنیادی طور پر یورپ، ایشیا، اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک ہیں۔ یہ کنونشن بین الاقوامی سطح پر تجارتی نقل و حمل کے آپریشنز کو تیز تر اور زیادہ مؤثر بناتا ہے۔ پاکستان نے جنوری 2016ء میں اس کنونشن پر دستخط کیے تھے۔

سستے روسی خام تیل کے دوسرے جہاز کی پاکستان آمد کے تقریباً دو ہفتے بعد یہ تجارتی قافلہ آیا ہے جو ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان ایک اور ڈیل کے تحت ہے۔ سامان کا یہ ٹرک پاکستان کے جنوبی شہر، کراچی کی بندرگاہ پر کھڑا ہے۔ پہلا جہاز 11 جون کو 45,122 میٹرک ٹن روسی خام تیل لے کر پہنچا تھا۔

وزیرِ مواصلات، اسد محمود اور دیگر حکام نے طورخم سرحد پر مال کی وصولی کے لیے وقت طے کر رکھا تھا لیکن افنان خان کے مطابق، خراب موسم کے باعث اس دورے کو منسوخ کرنا پڑا۔

انہوں نے مزید کہا کہ"طورخم کے راستے دیگر ممالک سے تو سامان آتا ہے لیکن روس سے آنے والے تجارتی قافلے نے پہلی بار سرحد عبور کی ہے۔ روسی سامان کے مزید ٹرکوں کی جلد پاکستان آمد کی توقع ہے۔"

ایک پاکستانی کسٹمز کلیئرنس ایجنٹ، اختر نواز نے امید ظاہر کی کہ ماسکو کے ساتھ زمینی راستے سے تجارت جاری رہنے سے پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی اور سرحدی علاقے میں مقامی کاروبار کو فائدہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ"سرحد پر کاروبار میں تیزی لانے کے لیے پاکستان کو کسٹمز کے عمل کو آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ زمینی راستے سے ہونے والی تجارت، کاروبار کی حوصلہ افزائی کرتی اور اشیاء کی قیمتیں مستحکم رکھتی ہے۔"

حماد علی کے مطابق، جمعے کو آنے والے سامان کو ہینڈل کرنے کے لیے لاجسٹکس کمپنی، بیسٹ ٹرانس ذمہ دار تھی جبکہ سامان کا ٹرک ایک روسی ڈرائیور چلا رہا تھا۔ حماد علی بھی طورخم سرحد پر تعینات ایک کسٹمز آفیسر ہیں۔

پاکستان پہلے ٹی آئی آر کنونشن کے تحت وسطی ایشیا کے ممالک سے تجارت کرتا رہا ہے لیکن اب دوطرفہ معاہدے کے تحت روس سے تجارت دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مزید فروغ دے گی۔

کسٹمز حکام کے مطابق، گذشتہ ماہ طورخم سرحد کے راستے ازبکستان اور ترکمانستان سے ایل پی جی کے 21 ٹرکوں کا قافلہ پاکستان پہنچا تھا۔ گذشتہ ماہ، کراچی میں سستے روسی خام تیل کے پہلے قافلے کی آمد کے کچھ ہی دیر بعد ایک پی جی کے آرڈرز آنا شروع ہو گئے۔

طورخم کسٹمز محکمے کے مطابق ٹی آئی آر کے فوائد میں سادہ بنائے گئے کسٹمز طریقہ کار، تجارت کے لیے وقت اور قیمت کی بچت، تجارتی سامان کے لیے بہتر حفاظت، عالمی رسائی اور باہمی توثیق، بین الاقوامی تجارت کے سہولیات کی فراہمی، خطرے میں کمی، اور ضمانتی نظام شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں