سعودی عرب نے سٹیٹ بینک میں 2 ارب ڈالر منتقل کر دیئے، اسحاق ڈار کی قوم کے لیے خوشخبری

’’خادم حرمین شریفین شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ ہر موقع پر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قوم کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ دوست ملک سعودی عرب نے سٹیٹ بینک میں 2 ارب ڈالر منتقل کر دیے ہیں۔

اسلام آباد میں جاری کردہ مختصر ویڈیو پیغام میں اسحاق ڈار نے کہا کہ دوست ملک سعودی عرب نے سٹیٹ بینک میں 2 ارب ڈالر ڈیپازٹ کر دیے ہیں، سٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں کریڈٹ آ چکا ہے۔

’’وزیر اعظم شہباز شریف، آرمی چیف عاصم منیر، اپنی اور پاکستان کے عوام کی جانب سے سعودی عرب کی قیادت بالخصوص خادم حرمین شریفین شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ ہر موقع پر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ سعودی عرب حقیقی بھائی کی طرح اپنا کردار ادا کرتا ہے۔‘‘

پاکستانی وزیر خزانہ اسحاق ڈار: فائل فوٹو
پاکستانی وزیر خزانہ اسحاق ڈار: فائل فوٹو

وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے 2 ارب ڈالرز سٹیٹ بینک میں جمع کرانے سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب ہر موقع پر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، پاکستان کے معاملات بہتری کی طرف آ چکے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں مزید اچھی ڈویلپمنٹ ہوں گی، پاکستان کے معاملات استحکام کی طرف آ چکے ہیں، مستقبل میں معاشی معاملات مزید بہتری کی طرف جائیں گے۔

اسی حوالے سے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ رقم کی اس آمد سے سٹیٹ بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو گیا ہے اور یہ 14 جولائی 2023 کو ختم ہونے والے ہفتے کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر میں ظاہر ہو گا۔

خیال رہے کہ وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کےدرمیان ایکسٹرنل فنانسنگ کا معاملہ طے پا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف نے وزارت خزانہ کے بھیجے گئے 8.2 ارب ڈالر کی فنانسنگ گیپ کا منصوبہ مان لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کو آئی ایم ایف، عالمی بینک، ایشین ڈیولپمنٹ بینک، چین، سعودی عرب اور یو اے ای سے فنانسنگ حاصل کرنی ہے جب کہ رواں مالی سال کے دوران چین سے 3.5 ارب ڈالر کی فنانسنگ کا انتظام کیا جائےگا۔

وزارت خزانہ کے پلان کے مطابق سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر کی فنانسنگ حاصل کرنی تھی۔

اس کے علاوہ یو اے ای سے ایک ارب ڈالر، ایشیائی ترقیاتی بینک سے 50 کروڑ ڈالرکی فنانسنگ اور عالمی بینک سے 50 کروڑ ڈالرکی فنانسنگ حاصل کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں