پاکستان امن اور محبت کا پیغام عام کرنے کا خواہاں ہے: ڈاکٹر عارف علوی

دنیا کے تمام مذاہب معاشرے میں اخوت اور مساوات پر زور دیتے ہیں؛ گندھارا سمپوزیم کے افتتاحی سیشن سے صدر مملکت کا خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عالمی امن اور ماحول کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لئے مشترکہ اور مربوط اقدامات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب معاشرے میں اخوت اور مساوات پر زور دیتے ہیں، مذاہب نے امن کے لئے بڑی جستجو کی ہے، چاہتے ہیں کہ امن اور محبت کا پیغام عام ہو۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں ”کلچرل ڈپلومیسی: پاکستان میں گندھارا تہذیب اور بدھ مت ورثہ کی بحالی“کے موضوع پر تین روزہ گندھارا سمپوزیم 2023 سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سمپوزیم کے افتتاحی سیشن میں اسلام آباد میں متعین مختلف ملکوں کے سفارت کاروں، مذہبی رہنمائوں، ماہرین آثار قدیمہ، ماہرین تعلیم اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔

سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، وزیر مملکت اور چیئرمین وزیراعظم ٹاسک فورس گندھارا ٹورازم ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی سمیت دیگر ملکی اور غیر ملکی مندوبین نے بھی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔

صدر مملکت نے کہا کہ مختلف تہذیبوں کے بارے میں جاننے کے لئے متعدد ملکوں کے دورے کئے، وادی سندھ کی تہذیب کا شمار دنیا کی اہم تہذیبوں میں ہوتا ہے، مذہبی کتب میں گندھارا تہذیب کا بھی ذکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدھا کی تعلیمات امن، محبت اور رواداری کا درس دیتی ہیں، موجودہ دور میں صبر اور تحمل ضروری ہوچکا ہے۔

صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف تہذیبوں کو اختلافات بھلا کر باہم ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے سمپوزیم کے انعقاد پر انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد اور دیگر متعلقہ اداروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تمام مذاہب نے امن کی بات کی ہے اور اس کے لئے مذاہب نے بڑی کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو امن اور بہتر ماحول کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ دنیا کو تنازعات سے ہٹ کر امن کی طرف جانا چاہئے اور تہذیبوں کو لاحق خطرات کو روکنا ہوگا۔

قبل ازیں سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے تقریب میں شرکت پر صدر مملکت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سمپوزیم کے انعقاد سے پاکستان میں مذہبی سیاحت کو فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پشاور، ٹیکسیلا اور تخت بھائی گندھارا تہذیب کے اہم شہر رہے ہیں۔

چیئرمین وزیراعظم ٹاسک فورس گندھارا ٹورازم ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں گندھارا سمیت متعدد تہذیبوں کے آثار پائے جاتے ہیں، ثقافتی سیاحت کے ذریعے پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی اور مذہبی سیاحت مختلف ملکوں اور معاشروں کو قریب لانے کا باعث بنتی ہے، بین الاقوامی محققین کو پاکستان میں خوش آمدید کہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سیاحوں کے لئے انتہائی محفوظ اور اہم ملک ہے۔ گندھارا تہذیب اور بدھ مت کے ورثے پر ہونے والے سمپوزیم سے ملائیشیا، تھائی لینڈ، جنوبی کوریا، نیپال، سری لنکا، چین اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے مقررین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سمپوزیم میں پاکستان کی سیاحتی صنعت کے نامور سٹیک ہولڈرز نے بھی شرکت کی۔

گندھارا سمپوزیم کا ایک اہم مقصد گندھارا کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور اندرون و بیرون ملک پاکستان کے بھرپور اور متنوع ثقافتی ورثے کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اسے اجاگر کرنا ہے۔ گندھارا سمپوزیم سے ملکی سیاحت بالخصوص مذہبی سیاحت کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں