پاکستان نے انسانی حقوق سے متعلق اسرائیل کا مشورہ مسترد کر دیا

اسلام آباد کی صہیونی ریاست کی جانب سے فلسطین پر روا رکھے گئے ’مظالم کی تاریخ‘ پر شدید تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ملک میں انسانی حقوق کے ریکارڈ پر اسرائیل کے تبصروں کو مسترد کرتے ہوئے فلسطین پر روا رکھے گئے "مظالم کی تاریخ" یاد دلاتے ہوئے صہیونی ریاست کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور وہ کئی عشروں سے ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا مطالبہ کر رہا ہے جو "بین الاقوامی طور پر مسلمہ قوانین" کے مطابق اور 1967 کی جنگ سے پہلے والی سرحدوں پر مبنی ہو۔

انسانی حقوق کے احترام کے اسرائیلی مطالبے کے جواب میں پاکستان کے دفترِ خارجہ نے پیر کے روز کہا کہ"اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے پاکستان کی یونیورسل پریاڈک رپورٹ کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔"

"متعدد ریاستوں اور سول سوسائٹی تنظیموں نے اس پیش رفت پر پاکستان کو سراہا ہے جو اس نے انسانی حقوق کے فروغ اور بہتری کے لیے کی ہے۔"

دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ "اسرائیل کا سیاسی حوالے سے دیا گیا بیان بنیادی طور پر سیشن کے مثبت لہجے اور ریاستوں کی ایک بڑی اکثریت کے بیانات سے متصادم ہے۔ چونکہ اسرائیل خود فلسطینیوں پر ظلم و تشدد کی طویل تاریخ کا حامل ہے تو پاکستان یقیناً اس کے مشورے کے بغیر (بھی) انسانی حقوق کا بخوبی تحفظ کر سکتا ہے۔"

پاکستان اور اسرائیل کے مابین حکومتی یا سفارتی تعلقات کبھی نہیں رہے اور یکے بعد دیگرے آنے والی پاکستانی حکومتیں بار بار یہ کہتی رہی ہیں کہ مسئلہ فلسطین حل کیے بغیر وہ اسرائیل کو تسلیم نہ کریں گے۔

تاہم، دونوں ممالک کے درمیان کئی عشروں تک فہم وفراست اور احتیاط پر مبنی غیر سرکاری تعلقات رہے ہیں۔ اس حوالے سے برطانوی حکومت کی ایک رپورٹ میں 2013 میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے فوجی ٹیکنالوجی پاکستان کو فروخت کی لیکن دونوں ممالک اس بات سے انکار کرتے ہیں۔

2022ء میں پاکستانی امریکیوں کا ایک وفد اسرائیل گیا تھا جس سے پاکستان میں کافی غم وغصہ پیدا ہوا۔ اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے اسرائیل کا دورہ کرنے والے افراد پر الزام لگایا کہ وہ اسرائیل فلسطین کے معاملے پر ملک کے سفارتی موقف کو کمزور کرنا چاہتے تھے۔

قبل ازیں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے 53 ویں اجلاس میں پاکستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے رپورٹ پیش کی گئی جس پر کونسل ممالک بشمول اسرائیل نے گفتگو کی۔

اقوام متحدہ میں اسرائیل کی نائب مستقل مندوب آدی فرجون نے پاکستانی مندوب کی موجودگی میں کہا کہ ’اسرائیل کو پاکستان میں انسانی حقوق کی مجموعی صورت حال پر گہری تشویش ہے جہاں جبری گمشدگیاں، تشدد، پرامن احتجاج پر کریک ڈاؤن، مذہبی اقلیتوں اور دیگر پسماندہ گروپوں کے خلاف تشدد جاری ہے۔‘

انہوں نے بیان میں مزید کہا کہ ’اس حوالے سے اسرائیل اس بات پر مایوس ہے کہ پاکستان کے چوتھے جائزے کے دوران اس کی تمام سفارشات کو نوٹ کیا گیا۔‘

پاکستان کے حوالے سے کل 340 سفارشات موصول ہوئیں تھیں جن میں سے 253 کو پاکستان کی حمایت حاصل ہوئی جب کہ 87 کو صرف نوٹ کیا گیا جن میں اسرائیل کی سفارشات بھی شامل تھیں۔

اسرائیل کا اپنی سفارشات میں مزید کہنا تھا کہ ’یہ ضروری ہے کہ پاکستان من مانی گرفتاریوں، تشدد، دوسرے ناروا سلوک کو روکنے، ایسی کارروائیوں کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور سزائے موت کے وسیع استعمال، خاص طور پر بچوں اور معذور افراد کے معاملے میں، ختم کرنے کے لیے ہماری سفارشات پر عمل کرے۔

’اسرائیل پاکستان پر یہ بھی زور دیتا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی معیارات کے مطابق ہم جنس پرستی کی قانونی اجازت دے اور امتیازی سلوک کے خلاف جامع قانون سازی کرے جو جنسی رجحان اور صنفی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا خاتمہ کرے۔‘

پاکستان میں توہین مذہب کے حوالے سے قوانین پر نائب مندوب کا کہنا تھا کہ ’جنوری 2023 میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے توہین مذہب کے ان قوانین کو سخت کرنے کی قرارداد منظور کی جو اکثر مذہبی اور دیگر اقلیتیوں کو ہدف اور انہیں جبر کا نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔‘

اجلاس میں پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کے مستقبل مندوب خلیل الرحمن ہاشمی موجود تھے۔ ان کے علاوہ دیگر ممالک کے سفرا نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ ان ممالک میں مصر، ایران، انڈونیشیا، ایتھوپیا، عراق، کویت، لیبیا، نیپال، عمان شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں