پاکستان آئی ایم ایف سے 3 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کی منظوری کے لیے پُرامید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس امید کااظہار کیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا بورڈ بدھ کو اپنے اجلاس میں تین ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کی منظوری دے دے گا۔

پاکستان اور آئی ایم ایف نے گذشتہ ماہ عملہ کی سطح پر ایک معاہدہ طے کیا تھا۔اس کے تحت نقد رقوم کی قلّت سے دوچار ملک کے لیے انتہائی ضروری فنڈز حاصل کیے گئے ہیں۔

معاہدے کے تحت1.1 ارب ڈالر کی پیشگی ادائی اور بقیہ رقم کی اقساط میں تقسیم سے قبل فنڈ کے بورڈ کی منظوری درکار ہے۔

شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کا اجلاس آج ہو رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ بورڈ اس پروگرام کی منظوری دے گا اور سے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

گذشتہ مہینوں میں دِوالا نکلنے کے دہانے پر کھڑے پاکستان کی لاغرمعیشت کو سنبھالا دینے کے لیے نو ماہ کی قلیل مدت کا یہ پیکج منظور کیا جارہا ہے۔یہ پیش رفت ملک کے مالی نظم و ضبط پر آٹھ ماہ کے سخت مذاکرات کے بعد ہوئی ہے۔

ملک کی ساڑھے تین سو ارب ڈالر کی معیشت کو ادائیگیوں کے توازن کے سنگین بحران کا سامنا کرنا ہے۔اس کے مرکزی بینک کے ذخائر سکڑ چکے ہیں اور وہ بمشکل ایک ماہ کی کنٹرول درآمدات کو پورا کر سکتے ہیں۔

آئی ایم ایف کے بورڈ کی منظوری سے پاکستان کے لیے دیگر دوطرفہ اور کثیر الجہت بیرونی مالیات کا راستہ بھی کھل جائے گا۔

چین نے گذشتہ تین ماہ کے دوران میں پاکستان کے ذمے واجب الادا پانچ ارب ڈالر سے زیادہ کے قرض کی تجدید کی ہے جس کے بارے میں شہبازشریف کا کہنا تھا کہ اس اقدام نے ان کے خیال میں قرضوں کی عدم ادائیگی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

سعودی عرب نے منگل کے روز بینک دولت پاکستان میں 2 ارب ڈالر کے امدادی فنڈز جمع کرائے ہیں اور اس سے ایک روز قبل کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کی خودمختار درجہ بندی کو سی سی سی منفی سے سی سی سی (مثبت) اپ گریڈ کردیا تھا۔بیل آؤٹ پیکج سے ملک کے اسٹاک اور بانڈز میں سرمایہ کاروں کوبھی راحت ملی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں