ژوب میں فوجی چھاؤنی پر حملے میں چار سکیورٹی اہلکار شہید

کمشنر ژوب ڈویژن سعید عمرانی نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے میں پانچ حملہ آور بھی مارے گئے جبکہ کلیئرنس آپریشن جاری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بلوچستان کے ضلع ژوب میں حکام کے مطابق ایک چھاؤنی پر منگل اور بدھ کی درمیانی شب مسلح افراد کے حملے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک عام شہری اور سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار شہید ہو گئے جبکہ پانچ حملہ آور بھی مارے گئے، جس کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

کمشنر ژوب ڈویژن سعید عمرانی نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ راکٹ حملے اور فائرنگ کے تبادلے میں سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار اور چار عام شہری زخمی بھی ہوئے، جنہیں طبی امداد کے لیے سول ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

کمشنر ژوب کے مطابق فائرنگ سے نیو آبادی کاکڑ ٹاؤن میں دو افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک دوسری جگہ بس فائرنگ کی زد میں آگئی، جس میں ایک خاتون زخمی ہوئیں، جو بعدازاں چل بسیں اور ایک اور مقام پر ایک راہ گیر کے پاؤں میں گولی لگی۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مظفر شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ زخمیوں میں سے چار کو کوئٹہ منتقل کردیا گیا ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری تحریک جہاد پاکستان نامی تنظیم نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

تحریک جہاد پاکستان کا نام اس وقت سامنے آیا جب اس تنظیم نے رواں سال مارچ میں سبی کے قریب پولیس کی گاڑی پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ بعد میں قلعہ سیف اللہ چھاؤنی پر حملے کی ذمہ داری بھی اسی تنظیم نے قبول کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں