وزیراعظم شہباز شریف کااگست میں اقتدار نگران سیٹ اپ کو سونپنے کا اعلان

حکومت نے صرف 15 ماہ کی قلیل مدت میں گذشتہ چار سال میں ہونے والی تباہی کا ملبہ صاف کیا:قوم سے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو قوم سے خطاب میں اعلان کیا ہے کہ موجودہ حکومت اگست میں نگران سیٹ اپ کو ملک کی باگ ڈور سونپ دے گی۔

وزیراعظم نے قوم سے یہ خطاب پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان تین ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی معاہدے کے ایک روز بعد کیا ہے۔ نقدی کی کمی کا شکار پاکستان کو جمعرات کی صبح 1.2 ارب ڈالر کی پہلی قسط موصول ہوگئی ہے۔

شہباز شریف نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا کہ انھیں گذشتہ سال اپریل میں وزیر اعظم کی حیثیت سے ملک کا نظم ونسق چلانے اور اس کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کی ’’مقدس ذمہ داری‘‘دی گئی تھی۔ہم اگست 2023 میں یہ ذمے داری نگران حکومت کو سونپ دیں گے۔

انھوں نے باور کرایا کہ موجودہ حکومت نے صرف 15 ماہ کی قلیل مدت میں گذشتہ چار سال میں ہونے والی تباہی کے ملبے کو صاف کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے مفادات کی راہ میں پھیلی بارودی سرنگوں کو صاف کیا اور معیشت اور خارجہ امور سمیت ملک کے معاملات چلانے میں بدانتظامی، نااہلی اور سازش کی وجہ سے لگنے والی آگ پر قابو پایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ڈیڑھ سال کا یہ مختصر عرصہ ناامیدی کے اندھیروں سے امید کی روشنی تک کا سفر تھا۔یہ سب کچھ کھونے کے بعد کچھ حاصل کرنے کا آغاز تھا۔یہ انتشار اور افراتفری سے ترقی کی طرف لوٹنے کا سفر تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ حکومت کا سفر معاشی ترقی کی طرف لوٹنے اور مہنگائی، سیلاب اور بے روزگاری سے دوچار قوم کو ریلیف مہیا کرنے کا سفر ہے۔یہ انسانی وقار، پاکیزگی، قومی خود کفالت، میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی کی بحالی کا سفر تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ مخلوط حکومتِ پاکستان کی جمہوری تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی انتظامیہ ہے جو مختصر مدت میں تشکیل پائی تھی لیکن اسے مشکل ترین چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

انھوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس حکومت نے دراصل ایک معیار اور سمت متعین کی ہے کہ وقت کی کمی اور کبھی نہ ختم ہونے والی مشکلات کے باوجود ملک کو بحرانوں سے نکالا جاسکتا ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران میں حکومت نے ریاست کے تحفظ کے لیے سیاست کی قربانی دی۔ ہمیں اپنے ووٹ بینک کی فکر نہیں تھی بلکہ بینک دولت پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافے کی فکر تھی۔

آئی ایم ایف کے پروگرام کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے معاہدے پر دستخط کیے تھے لیکن پھر اس کی خلاف ورزی کی اور ملک کو ڈیفالٹ کے دہانے پرپہنچا دیا۔جب ہم پروگرام کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو سابق حکمران دن رات ریاست مخالف سازشوں میں مصروف تھے۔ شہباز شریف نے کہا کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود ان کی حکومت نے امید نہیں ہاری اور آئی ایم ایف کے ساتھ کامیابی سے معاہدہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں