ایف آئی اے کا غیر قانونی قرضہ ایپس کے خلاف 'سخت ایکشن' لینے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وفاقی تحقیقاتی ادارے ’’ایف آئی اے‘‘ نے غیر قانونی قرضہ ایپس چلانے والے مشکوک افراد کے خلاف 'سخت ایکشن' لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

ایف آئی اے نے اس امر کا اظہار راولپنڈی کے محمد مسعود نامی شخص کی مبینہ خودکشی کے بعد ایک بیان میں کیا ہے۔ خودکشی کرنے والے کو قرضہ ایپ کے افسران کی طرف سے ہراسگی کا سامنا تھا۔

راولپنڈی کے ایک 40 سالہ رہائشی محمد مسعود نے اس ہفتے خودکشی کر لی کیونکہ وہ مختلف موبائل قرضہ ایپس سے لیا گیا قرض لوٹانے میں ناکام ہو گیا تھا۔ ان کی اہلیہ نے میڈیا کو بتایا کہ ایپس کے افسران انہیں روزانہ کی بنیاد پر دھمکیاں دیتے تھے جس کی وجہ سے وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہو گئے۔

یہ افسوس ناک واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مئی میں افراطِ زر کی سالانہ شرح 37.97 تک بڑھ گئی ہے۔ مسلسل دوسرے مہینے ہونے والا یہ اضافہ ایک قومی ریکارڈ ہے جس سے ملک کے مالی بحران میں شدت اور دیوالیہ ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ 22 کروڑ والے ملک میں بیشتر لوگ مہنگائی میں اضافے سے پریشان ہیں۔

حکومت کے ملکی کرنسی کی قدر میں کمی کرنے اور معاشی دیوالیہ سے بچنے کے لیے آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکج کے حصول کی خاطر سبسڈیز کا خاتمہ کرنے سے لوگوں کے مسائل مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

"ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل محسن حسن بٹ نے ایجنسی کے سائبر کرائم کے شعبے سے اس واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا حکم جاری کیا ہے۔" ڈی جی ایف آئی اے نے مشکوک افراد کی گرفتاری اور شہریوں کو ہراساں کرنے والی قرضہ ایپس کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے کے سائبر کرائم سرکل راولپنڈی نے متأثرہ شخص کو ملنے والی کالز کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ کالرز کا مقام اور ایپس کی ملکیت کے بارے میں معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔

ایجنسی نے کہا کہ اس نے اسلام آباد کے جی-8 علاقے میں ایپس کے دفاتر پر دو الگ الگ چھاپے بھی مارے اور لیپ ٹاپس اور کمپیوٹر قبضے میں لے کر جگہ کو سیل کردیا۔

بیان کے مطابق سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان سے بھی غیر قانونی قرضہ ایپس کے متعلق معلومات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث قرضہ ایپس کے خلاف مزید کارروائی کی جائے۔ ملک میں کام کرنے والی تمام غیر قانونی قرضہ ایپس کو بلاک کرنے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو بھی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کے حوالے سے بیان میں کہا گیا ہے کہ"متعلقہ اداروں کے تعاون سے مستقبل میں ایسے حادثات کو روکنے کے لیے مؤثر لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ قرضہ ایپس کی طرف سے ہراسگی کی صورت میں شہری قریبی ایف آئی اے سائبر کرائم سرکلز میں جا کر اپنی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں