خیبر پختونخواہ میں امریکی امداد سے پولیس کا تربیتی مرکز قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ (کے پی) میں حکومت نے ایک پولیس ٹریننگ سینٹر کا افتتاح کیا ہے جس کا مقصد عسکریت پسندی سے متاثرہ صوبے میں اہلکاروں کی تربیت کی صلاحیت کو بڑھانا ہے-

عرب نیوز کے مطابق، پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے خیبر پختونخواہ پولیس کے سربراہ اختر حیات اور دیگر سینئر افسران کے ساتھ نوشہرہ ضلع میں 17.2 ملین ڈالر کے پولیس ٹریننگ سینٹر کے افتتاح میں شرکت کی۔

یہ مرکز پاکستان کا سب سے بڑا تعمیراتی منصوبہ ہے، جسے امریکی بیورو آف انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لا انفورسمنٹ افیئرز نے گزشتہ 12 سالوں میں مکمل کیا ہے۔ اس سے ایک وقت میں 1,700 اہلکاروں کو تربیت دی جائے گی۔

امریکی سفیر نے افتتاح کے موقع پر کہا کہ "اس سرمایہ کاری کا دیرپا مثبت اثر پڑے گا۔ "خیبر پختونخوا کے دور دراز اور زیر انتظام علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی اور حکومت کی رٹ کو مضبوط بنانے سے سیکورٹی اور خوشحالی میں اضافہ ہو گا۔"

امریکی سفارت خانے کے مطابق منصوبے کی تکمیل یو این ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت عمل میں آئی، اس میں 75 عمارتوں کی تعمیر شامل ہے، جن میں ایک اکیڈمک بلاک، ایک ہیلتھ یونٹ، مردوں اور خواتین کے ہاسٹلز اور ایک کثیر مقصدی ہال شامل ہے۔

امریکی سفیر اور کے پی پولیس کے سربراہ نے کے پی پولیس کو زندگی بچانے والی بکتر بند گاڑیوں، بلٹ پروف جیکٹوں اور ہیلمٹ کی فراہمی کے لیے 3 ملین ڈالر کے معاہدے پر بھی دستخط کیے۔

صوبہ خیبرپختونخواہ، جس کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے، طویل عرصے سے عسکریت پسندوں کی کاروائیوں کی زد میں ہے۔ جنوری میں، پشاور میں ایک پولیس کمپاؤنڈ کے اندر واقع مسجد میں ایک خودکش بم دھماکے میں 80 سے زائد افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر پولیس اہلکار تھے، یہ اس سال صوبے میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والے بڑے حملوں میں سے ایک تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں