ٹی ٹی پی کو افغانستان سے کارروائی کی آزادی پر شدید تحفظات ہیں: ترجمان پاک فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترجمان پاک فوج نے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان سے کارروائی کی آزادی پر پاک فوج کو شدید تحفظات ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کوئٹہ گیریژن کا دورہ کیا، جہاں انہیں ژوب میں حال ہی میں ہونے والے دہشت گرد حملے سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر آرمی چیف نے شہدا کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے سی ایم ایچ کوئٹہ میں دہشت گردی کے واقعے میں زخمی ہونے والے فوجیوں کی عیادت کی اور قوم کے لیے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے عزم کو سراہا۔

دریں اثنا آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کو افغانستان میں ٹی ٹی پی کو دستیاب محفوظ پناہ گاہوں اور کارروائی کی آزادی پر شدید تحفظات ہیں۔ توقع کی جاتی ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

ترجمان کے مطابق دوحا معاہدے میں کیے گئے وعدوں کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کی شمولیت پر تشویش ہے، اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس طرح کے حملے ناقابل برداشت ہیں اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی جانب سے مؤثر جوابی کارروائی ہو گی۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بلا امتیاز جاری رہے گا ۔ مسلح افواج ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک آرام اور چین سے نہیں بیٹھیں گی۔

قبل ازیں کوئٹہ آمد پر کور کمانڈر نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا استقبال کیا۔

پاکستان کی فوج نے بدھ کو بتایا تھا کہ بلوچستان کے علاقے ژوب میں فوجی اڈے پر حملے اور سوئی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران 12فوجی شہید جبکہ پانچ حملہ آور جوابی کارروائی میں مارے گئے تھے۔

ایک اور واقعے میں صوبے کے ضلع سوئی میں بھاری ہتھیاروں سے لیس ’دہشت گردوں‘ کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مزید تین فوجی جان سے گئے جبکہ دو حملہ آور بھی مارے گئے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل نمائندہ سہیل شاہین نے اتوار کو عرب نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ٹی ٹی پی افغانستان میں نہیں بلکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہے، اگر وہ پاکستان کے اندر ہیں تو یہ ان کی ذمہ داری ہے، ہماری نہیں۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں