’کراچی میں اچھا وقت گزارا‘، دُنیا کے سفر پر نکلی جرمن سائیکلسٹ

روشینوں کے شہر کے مختلف حصوں کی سیر کے بعد ہوفمن کی لاہور کے معرکۃ الآرا سفر پر روانگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایک جرمن خاتون، جو بائیسکل پر دنیا کے ایک درجن سے زائد ممالک کا سفر کر چکی ہیں، نے پاکستان کے جنوبی اور ساحلی شہر کراچی کی رونقوں کی تعریف کی جہاں انہوں نے کچھ عرصہ گذارا ہے۔ اس کے بعد وہ پنجاب کے شہر لاہور کے لیے روانہ ہو گئیں۔

ترکیہ میں اپنی جڑوں کی دریافت کے بعد، 33 سالہ میڈلین ہوفمن نے گذشتہ سال اگست میں اپنا سفر سڈنی سے ترکیہ کے لیے شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پیدائش کے وقت ان کے والدین الگ ہو گئے اور انہیں 26 سال کی عمر میں معلوم ہوا کہ ان کے والد ترک تھے۔

جرمنی میں پیدائش اور پرورش پانے والی ہوفمن دس سال قبل آسٹریلیا کے شہر، سڈنی منتقل ہو گئیں۔ ساڑھے چار ماہ کے مختصر عرصے میں وہ 12 ممالک کا سفر کرکے اس سال جنوری میں ترکیہ پہنچیں جہاں وہ اپنے والد اور ددھیال کے لوگوں سے ملیں۔

وہ وہاں سات ہفتے مقیم رہیں، پھر اردن، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات سمیت مشرقِ وسطیٰ کی ریاستوں کے لیے دوبارہ سفر شروع کیا۔ حال ہی میں وہ بذریعہ جہاز دبئی سے کراچی اپنی بائیسکل کے ساتھ آئیں۔ پاکستان ان کی سفری فہرست میں 18 واں ملک بن گیا ہے۔

عرب نیوز سے ایک گفتگو میں انہوں نے کہا: "مجھے کراچی کی رونقیں واقعی بہت پسند آئیں۔ مجھے اس شہر میں اب تک ایستادہ تاریخی عمارات اچھی لگیں۔ یہ عمارات کراچی کو قدیم اور جدید کا ایک مجموعہ بناتی ہیں۔ یہاں سب جگہ کھانا پینا اور لوگ ہیں۔ میں نے کچھ مقامی کھانے مثلاً آلو کا پراٹھا اور حلوہ پوری کھائی ہے اور ڈھیر ساری چائے پی ہے۔ یہاں کی ثقافت کی دریافت میں بہت لطف آیا۔"

انہوں نے بتایا کہ گذشتہ سات ماہ میں انہوں نے کئی مسلم ریاستوں کا سفر کیا ہےاور ان کی مہمان نوازی کو "بہت شاندار" پایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "سعودی عرب میں میرا وقت واقعی بہت عمدہ تھا۔ لوگوں کی وجہ سے اب اس ملک کا میرے دل میں بہت خاص مقام ہے۔ لوگ بہت مہمان نواز ہیں۔ یہاں کے وسیع و عریض قدرتی مناظر کا سائیکل پر سفر مجھے بہت اچھا لگا۔"

ہوفمن پہلے جرمنی میں اپنی والدہ اور دو بہنوں کے ساتھ رہتی تھیں، پھر 2020ء میں والد سے ملنے کے لیے وہ آسٹریلیا منتقل ہو گئیں۔ ابتداً، انہوں نے ٹرین یا کرائے پر گاڑی لینے کا پلان کیا لیکن کووڈ-19 کی وبا کی وجہ سے سب کچھ منسوخ کرنا پڑا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت آسٹریلیا کی سرحدیں بھی بند تھیں۔ سو میں بائیسکل سواری زیادہ کرنے لگی اور سائکل سواروں کے گروپس کو بھی زیادہ دیکھنے لگی۔ اس میں واقعی میری دلچسپی میں اضافہ ہوا اور میں نے سوچا، 'واہ بھئی، یہ تو ایسی چیز ہے جو میں کرنا چاہوں گی۔"

انہوں نے بتایا کہ بائیسکل پر سفر آسان نہ تھا۔ "اس میں جسمانی اور ذہنی رکاوٹیں، پہاڑ، بارش، برف، صحرا میں شدت کی گرمی، فاصلے، مرد، اور میری بائیسکل کے مسائل تھے۔ مجھے سفر کے دوران خراب بائیسکل کی مرمت کرنا پڑتی ہے، بے شمار دفعہ ٹائر جواب دے جاتے ہیں۔

ہوفمن نے کہا کہ اپنی مہم پر روانگی سے قبل انہوں نے یقینی بنایا کہ بائیسکل مرمت کی کچھ معلومات حاصل ہوں۔ بطورِ عورت تنہا سفر کرتے ہوئے، وہ خیمہ زنی کے لیے جگہ کا انتخاب بہت احتیاط سے کرتی تھیں جہاں رات کو سونا ہوتا تھا۔

5 جولائی، 2023 کی اس تصویر میں جرمن مہم جو، میڈلین ہوفمن کراچی، پاکستان میں موجود ہیں: (میڈلین ہوفمن)
5 جولائی، 2023 کی اس تصویر میں جرمن مہم جو، میڈلین ہوفمن کراچی، پاکستان میں موجود ہیں: (میڈلین ہوفمن)

"میرا نہیں خیال کہ آپ اس طرح کے سفر کے لیے تربیت لے سکتے ہیں کیونکہ ایک خالی بائیسکل پر سفر، بہت سے سفری بیگوں کے ساتھ سفر کرنے سے بالکل مختلف ہے۔ ذہنی اطمینان یقیناً اہم ترین ہے۔ اگر میں کسی دن ذہنی طور پر کمزور ہوں جو کہ ہوتا ہے تو یہ مشکل ترین دن ہوتا ہے۔ اگر بہت زیادہ سائیکلنگ کی وجہ سے میرا جسم کمزور ہو جائے تو ذہن اس پر قابو پا سکتا ہے۔ لیکن اگر ذہن ہی کمزور ہو جائے تو پھر بہت مشکل ہوتی ہے۔" انہوں نے کہا۔

سفری ضروریات کے لیے ہوفمن اندازاً 45 کلوگرام کے قریب وزن اٹھائے ہوئے ہوتی ہیں۔ ان کی بائیک پر پانچ پیک ہوتے ہیں۔ سامنے والے دو میں ان کے کپڑے رکھے ہوتے ہیں، درمیان والے میں ضرورت کے تمام اوزار، جبکہ پشت کی طرف دو بڑے پیک ہوتے ہیں۔ ایک ان کی 'خواب گاہ' ہے جہاں ان کا خیمہ اور سلیپنگ بیگ ہوتا ہے جبکہ دوسرا 'کچن' ہے جس میں تمام برتن اور اشیائے خور ونوش رکھی ہوتی ہیں۔

جرمن بائیسکل مہم جو نے جمعرات کو کراچی سے لاہور آنے کے لیے 1200 کلومیٹر طویل سفر کا آغاز کیا۔ وہ واہگہ بارڈر عبور کرکے بھارت اور وہاں سے نیپال جانے کا ارادہ رکھتی ہیں جہاں وہ اناپرنا سرکٹ کے پہاڑوں کا سفر کریں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں