افغانستان ہمسایہ اور برادر ملک ہونے کا حق نہیں ادا کر رہا: خواجہ آصف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے ’’کہ افغانستان ہمسایہ اور برادر ملک ہونے کا حق نہیں ادا کر رہا نہ ہی دوحا معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے۔‘‘

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں خواجہ آصف نے لکھا ’’کہ 50 سے 60 لاکھ افغانیوں کو پاکستان میں تمام تر حقوق کے ساتھ پناہ میسر ہیں۔‘‘

انہوں نے واضح کیا کہ ’’اس کے بر عکس پاکستانیوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کو افغان سر زمین پر پناہ گاہیں میسر ہیں، یہ صورت حال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔‘‘

وزیر دفاع نے مزید لکھا کہ ’’پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کیلئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گا۔‘‘

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے گذشتہ روز 14 جولائی کو کوئٹہ گیریژن کے دورے کے دوران کہا تھا کہ پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے پر تشویش ہے۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان فوج کو دوحا معاہدے کے مطابق عبوری افغان حکومت سے توقع ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔‘

بیان کے مطابق ’تحریک طالبان پاکستان کی افغانستان میں موجود پناہ گاہوں اور سرگرمیوں کی آزادی پر شدید خدشات ہیں۔‘

’پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کا ملوث ہونا ایک اہم پہلو ہے جس کا تدارک ضروری ہے۔ ایسے حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز اس کا موثر جواب دیں گی۔‘

یہ بیان بدھ کو بلوچستان میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف 2 دہشت گردانہ حملوں کے تناظر میں سامنے آیا جس میں ژوب اور سوئی میں حملوں میں 12 فوجی شہید ہوئے تھے۔

افغان حکام کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

تاہم اتوار کو اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل نمائندہ سہیل شاہین نے عرب نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ٹی ٹی پی افغانستان میں نہیں بلکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہے، اگر وہ پاکستان کے اندر ہیں تو یہ ان کی ذمہ داری ہے، ہماری نہیں۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں