سابق صدر مشرف کی وفات کے 5 ماہ بعد کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف سماعت مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سابق صدر پرویز مشرف کی وفات کے 5 ماہ بعد سپریم کورٹ نے 2013 کے عام انتخابات میں قصور کی قومی اسمبلی کی نشست کے لیے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف دائر کی گئی درخواست پیر (17 جولائی) کو سماعت کے لیے مقرر کردی۔

چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس حسن اظہر رضوی پر مشتمل سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ کیس کی سماعت کرے گا۔

2013 میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 139 قصور کے لیے سابق صدر اور ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے ریٹرننگ افسر نے مسترد کر دیے تھے کیونکہ ان کے مخالف ایڈووکیٹ جاوید قصوری نے سابق صدر کے کاغذات نامزدگی پر 6 مختلف بنیادوں پر اعتراضات عائد کیے تھے۔

ایک اعتراض میں کہا گیا کہ امیدوار آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت بیان کردہ معیار پر پورا نہیں اترتا جوکہ قومی اسمبلی کا رکن بننے کے لیے امیدوار کی اہلیت اور نااہلی سے متعلق ہے۔

نتیجتاً ریٹرننگ افسر نے سابق آرمی چیف کو این اے 139 کی نشست سے الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔

بعدازاں الیکشن کمیشن نے ان کے خلاف کئی بار آئین کی خلاف ورزی کے مختلف عدالتی مقدمات کے پیش نظر قصور میں انہیں انتخابات سے روک دیا تھا۔

لہٰذا پرویز مشرف نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور آر او کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں