درجنوں عالمی ہولڈر مارشل آرٹ کےماہرپاکستانی ایتھلیٹ اب امارات میں قسمت آزمانےکوتیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں 70 مرتبہ اپنا نام درج کروانے والے مارشل آرٹس کے ماہر پاکستانی ایتھلیٹ ان دنوں متحدہ عرب امارات میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ وہ اگلے ماہ دبئی میں لائنز ڈن نامی اپنے مشہور فائٹ کلب کی ایک شاخ کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ خلیجی ریاست میں مکسڈ مارشل آرٹس (ایم ایم اے) کے طلبہ کو تربیت فراہم کی جا سکے۔

جنوبی وزیرستان کے قبائلی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے 33 سالہ، عرفان محسود 50 سے زیادہ عالمی ریکارڈز بنا رکھے ہیں جن میں سب سے زیادہ پش اپس، سکاٹس، جمپنگ جیکس اور ایک منٹ میں 100 ایل بیز کے ساتھ سکاٹ تھرسٹس کے ریکارڈز شامل ہیں۔

عرفان محسود (دائیں) لائنز ڈن فائٹ کلب میں ایک کھلاڑی کو تربیت دے رہے ہیں: عرب نیوز
عرفان محسود (دائیں) لائنز ڈن فائٹ کلب میں ایک کھلاڑی کو تربیت دے رہے ہیں: عرب نیوز

عرفان محسود ڈیرہ اسماعیل خان میں گذشتہ آٹھ سال سے اپنا فائٹ کلب چلا رہے ہیں۔ ان دنوں وہ متحدہ عرب امارات میں اپنے فائٹ کلب کی شاخ کھولنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، تاہم وہ اس کام کو کسی شراکت کے بغیر کرنے کے خواہاں ہیں۔ اس مقصد کے لئے وہ اگلے ماہ دبئی کے سفر پر روانہ ہونے والے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ڈیرہ اسماعیل خان میں ہمارے کلب کی دو شاخیں ہیں۔ اب میں دبئی میں آئندہ چند ماہ میں ایک شاخ کھولنے کا ارادہ رکھتا ہوں کیونکہ دبئی مارشل آرٹس کی ایک بین الاقوامی مارکیٹ بن رہا ہے۔"

پاکستان کی جنوب مغربی قبائلی پٹی میں کئی سال جاری رہنے والی دہشت گردی نے مقامی لوگوں کی روزمرہ سماجی زندگی پر بہت زیادہ اثر ڈالا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے رقص وموسیقی کے روایتی میلے، بیت بازی اور شاعری کے مقابلے، اور زندگی سے بھرپور کئی طرح کے کھیل فروغ پا رہے تھے۔

دہشت گرد گروہوں نے علاقے میں کرکٹ اور دیگر کھیلوں کے میدانوں کو نشانہ بنایا۔ تخریبی کارروائیوں کی وجہ سے ان علاقوں میں کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد پر کافی منفی اثرات مرتب ہوئے۔

ان تمام چیلنجر کے باوجود محسود نے ہمت نہیں ہاری اور امید پر قائم ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ ان کے کلب کے طلبہ اپنے ملک کے نمائندہ بن کر ابھریں گے اور پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے لائیں گے۔ محسود نے بتایا کہ "اب تک میرے 70 گینز ریکارڈز منظور ہو چکے ہیں۔ میرے کلب کے 90 سے زیادہ عالمی گینز ریکارڈز منظور شدہ ہیں۔"

ایم ایم اے کیٹگری کے ریکارڈ یافتہ، محمد ذیشان عرب نیوز سے گفتگو کر رہے ہیں
ایم ایم اے کیٹگری کے ریکارڈ یافتہ، محمد ذیشان عرب نیوز سے گفتگو کر رہے ہیں

محسود نے، 2015ء میں کلب کے آغاز سے اب تک، تسلسل کے ساتھ افراد کی صلاحیتوں کی پرورش اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے ان کی راہنمائی کی ہے۔ وہ 500 سے زیادہ طلبہ کی تربیت کا ریکارڈ رکھتے ہے۔

اس کلب نے 20 سے زیادہ ایسے کھلاڑی پیدا کیے ہیں جنہوں نے نہایت شاندار کامیابی حاصل کی۔ اس میں قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں حاصل کردہ طلائی تمغے بھی شامل ہیں۔ ان میں 16 کھلاڑیوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کے نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج ہوئے ہیں۔

ان میں سے ایک قابلِ ذکر کھلاڑی، محمد ذیشان ایم ایم اے کیٹگری میں ریکارڈ یافتہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ "میں نے لائنز ڈن فائٹ کلب میں پانچ سال ٹریننگ کی ہے اور اب میں دبئی میں ذاتی طور لوگوں کو ٹریننگ دیتا ہوں۔"

صرف سات سال کی عمر میں سالار محسود، کلب کے کم عمر ترین کھلاڑی کے طور پر "ایک ہاتھ سے کیے گئے کارٹ وہیلز" کا عالمی گینز ریکارڈ کے حامل ہیں۔ گینز ادارے کا سرکاری سرٹیفکیٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے 17 نومبر، 2022ء کو 30 سیکنڈ میں 26 مرتبہ ایک ہاتھ سے کارٹ وہیل کرنے کا متأثر کن کارنامہ انجام دیا۔

محسود کے ایک اور باصلاحیت کھلاڑی، یونس خان اس وقت دسویں جماعت کے طالب علم ہیں۔ انہوں نے دنیا کے تیز ترین پنچنگ ایتھلیٹ کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ انہوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ "میں پیشہ ور باکسر بننے اور پاکستان کی نمائندگی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔"

"ایک ہاتھ سے کیے گئے سب سے زیادہ کارٹ وہیلز کا ریکارڈ بنانے والے کم عمر ترین پاکستانی سالار محسود گینز ورلڈ ریکارڈ  تھامے ہوئے: عرب نیوز
"ایک ہاتھ سے کیے گئے سب سے زیادہ کارٹ وہیلز کا ریکارڈ بنانے والے کم عمر ترین پاکستانی سالار محسود گینز ورلڈ ریکارڈ تھامے ہوئے: عرب نیوز

لائنز ڈن فائٹ کلب میں ٹریننگ میں مختلف اقسام کی سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں جن میں دھوپ میں ننگے پاؤں کئی میل دوڑ لگانا، باکسنگ، کک باکسنگ اور جمناسٹک شامل ہیں۔ ان تربیتی سیشنز میں ہر عمر کے طلبہ حصہ لیتے ہیں جس سے متنوع احساس شراکت کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔

محسود نے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ایک اور کھیلوں کی سائنسز میں ایک ڈگری حاصل کی ہے۔ وہ اپنے آبائی علاقے وزیرستان سے 13 سال قبل نکل آئے تھے کیونکہ اس شورش زدہ علاقے میں فوج نے دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر دی تھی۔ تب سے انہوں نے خود کو فٹنس کے ریکارڈز بنانے اور مارشل آرٹس کے فروغ کے لیے وقف کر رکھا ہے۔

ان کے مطابق کسی عالمی گینز ریکارڈ کی قابلیت کا حصول ایک جان گسل اور وقت طلب کام ہے اور اس کے لیے ریکارڈ کی اصلیت کو ثابت کرنے کے لیے بین الاقوامی ٹیم کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ اس چیلنج کے باوجود، وہ ریکارڈز قائم کرنے اور منظور کروانے کے لیے پرعزم ہیں۔

اس وقت محسود مختلف طرح کے مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لیے اپنی ذاتی اور کھلاڑیوں کی تربیت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "پاکستان کی سطح پر گینز ورلڈ ریکارڈ نام درج کروانے والا کم عمر ترین کھلاڑی میرے کلب کا ہے۔ ہم نے 20 سے زیادہ ایسے سابقہ ریکارڈ توڑے ہیں جو پہلے بھارتی ایتھلیٹ کے نام تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں