زرعی مقاصد کے لیے فوج کو اراضی دینے سے روکنے کا عدالتی حکم معطل

نگران حکومت سابقہ حکومت کے کسی نامکمل اقدام یا پالیسی کی تکمیل کر سکتی ہے؛ اپیل میں موقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پنجاب حکومت کی اپیل پر پیر کو ابتدائی سماعت کرتے ہوئے 10 لاکھ ایکڑ ‏زرعی اراضی فوج کو دینے سے متعلق سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کر دیا۔

سنگل بینچ نے زرعی مقاصد کے لیے زمین فوج کو دینے کا اقدام کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

دو رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس علی باقر نجفی نے کی جس نے پنجاب حکومت کی اپیل پر سماعت کے دوران سرکاری وکیل کے ابتدائی دلائل سُنے۔

پنجاب حکومت نے اپیل میں کہا ہے کہ عدالتی فیصلے میں تضاد ہے کیونکہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں۔ حکومتی اپیل کے مطابق ایگریکلچرل پالیسیوں کو ریگولیٹ کرنا عدالتوں کی ذمہ داری نہیں۔

اپیل میں کہا گیا ہے کہ سنگل بینچ نے فوج کو زمین دینے کے نوٹیفکیشن کو قانون کی غلط تشریح کرتے ہوئے کالعدم قرار دیا اپیل کے مطابق قانون کے مطابق نگران حکومت سابقہ حکومت کے کسی نامکمل اقدام یا پالیسی کی تکمیل کر سکتی ہے۔

پنجاب کی نگران حکومت نے عدالت کو بتایا کہ منصوبہ نگران حکومت نے شروع نہیں کیا اس سے پہلے منتخب حکومت نے شروع کیا تھا۔

فوج کو زرعی زمین لیز پر دینے کے عمل کی ابتدا سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے دور حکومت میں ہوئی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ زمین فوج کو دینے کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دینے کا سنگل بینچ کا فیصلہ ختم کیا جائے۔

لاہور ہائی کورٹ نے سنگل بینچ نے حکومتی اقدام کو ’اختیارات سے تجاوز‘ اور معاہدے کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے تمام سرکاری زمین پنجاب حکومت کو واپس کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

عدالت نے فیصلہ معطل کرتے ہوئے دونوں فریقوں سے تفصیلی تحریری دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

فوج کو زمین کیوں درکار؟

پاکستانی فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) کی جانب سے فروری 2023 میں محکمہ ریوینیو پنجاب کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا گیا تھا کہ ’پاکستان سمیت دنیا بھر میں قدرتی خوراک اور مہنگائی کا چیلنج درپیش ہے، جس سے فوج کو بھی خوراک کی خریداری سے متعلق مسائل کا سامنا ہے، لہذا حکومت پنجاب صوبے کے مختلف علاقوں میں غیرآباد سرکاری زمین کارپوریٹ ایگری کلچر سکیم کے تحت الاٹ کر دے۔‘

خط میں کہا گیا تھا کہ ’فوج کے پاس غیر آباد زمینیں آباد کر کے انہیں قابل استعمال بنانے کا تجربہ ہے، اس کے لیے ماہر عملہ بھی موجود ہے۔ اگر حکومت پنجاب کی جانب سے ملکی وسیع تر مفاد میں زمین الاٹ کی جاتی ہے تو وسیع پیمانے پر کاشت کاری اور لائیو سٹاک سمیت دیگر شعبوں میں پیداوار بڑھائی جاسکے گی۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں