پاکستان،ایران کا انٹیلی جنس تبادلے سے سرحدی علاقوں سے عسکریت پسندی کے خاتمے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کے آرمی چیف جنرل سیّد عاصم منیر نے اپنے ایرانی ہم منصب میجر جنرل محمد باقری سے ملاقات میں انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور جنگجوؤں کے خلاف مؤثر کارروائی کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں سے عسکریت پسندی کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جنرل عاصم منیر نے ایران کے دو روزہ سرکاری دورے کے اختتام پرایرانی ہم منصب سے ملاقات کی ہے۔انھوں نے پاکستان اور ایران کے درمیان دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا ہے اور ان کے علاوہ ایران کی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں۔

ایران کی سرحد سے متصل پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں باغی نسلی بلوچ گروہوں کا کہنا ہے کہ وہ علاقائی وسائل کے زیادہ سے زیادہ حصے کے لیے ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں۔بلوچ گروہ سرحد کے دونوں طرف کام کرتے ہیں۔اپریل میں،ایران سے ایک بلوچ عسکریت پسند گروپ کے حملے میں چار پاکستانی سرحدی فوجی شہید ہو گئے تھے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ طرفین کے فوجی کمانڈروں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشت گردی خطے اور خاص طور پر دونوں ممالک کے لیے مشترکہ خطرہ ہے۔

پاکستانی آرمی چیف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات
پاکستانی آرمی چیف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات

انھوں نے انٹیلی جنس کے تبادلے اور دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے ذریعے سرحدی علاقوں سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے اور سکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی راہیں تلاش کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

جنرل عاصم منیر نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان سے بھی الگ الگ ملاقات کی اوران سے علاقائی امن کے لیے پاک ایران دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔

 جنرل عاصم منیر کی ایرانی وزیر خارجہ  حسین امیر عبداللہیان سے ملاقات
جنرل عاصم منیر کی ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان سے ملاقات

گذشتہ سال نومبر میں پاک فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد جنرل عاصم منیر کا ایران کا یہ پہلا دورہ ہے۔ اس سے قبل انھوں نے چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ کے دورے کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں