کورکمانڈرز کانفرنس:ہمسایہ ملک میں کالعدم ٹی ٹی پی کی ضرررساں پناہ گاہوں پراظہارِتشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو ’ہمسایہ ملک‘ (افغانستان) میں پناہ گاہوں کی دستیابی کا معاملہ اجاگر کیا ہے اور ان محفوظ پناہ گاہوں کو پاکستان کی سلامتی کو متاثر کرنے والی بڑی وجوہ میں سے ایک قرار دیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق جنرل ہیڈکوارٹرز، راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے زیرصدارت 258 ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی۔اس میں شرکاء کو داخلی سلامتی کی موجودہ صورت حال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے دیگر گروہوں کے دہشت گردوں کی پڑوسی ملک میں موجود پناہ گاہیں،انھیں کارروائیوں کی آزادی اور دہشت گردوں کو جدید ترین ہتھیاروں کی دستیابی پاکستان کی سلامتی کو متاثر کرنے کی بڑی وجوہات ہیں۔

اس سے صرف تین روز قبل، آئی ایس پی آر نے بلوچستان کے ضلع ژوب میں ایک چھاؤنی پر حملے کے بعد کہا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج کو افغانستان میں ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی آزادی پر شدید تشویش لاحق ہے۔

شعبہ تعلقات عامہ کے بیان میں اس توقع کا اظہار کیا گیا ہے کہ عبوری افغان حکومت حقیقی معنوں میں اور دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں کے مطابق کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے حملے ناقابل برداشت ہیں اوران کا پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے موثر جواب دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان فروری 2020 میں دوحہ معاہدے پر دست خط کیے گئے تھے۔اس کا مقصد افغانستان میں 2001ء سے جاری جنگ کا خاتمہ تھا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں 15 اگست 2021 کو افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا ہوا تھا۔

اس معاہدے میں افغان طالبان کی جانب سے اس بات کی ضمانت بھی شامل تھی کہ وہ القاعدہ سمیت عسکریت پسند گروہوں کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

پاکستان نے جنگجوؤں کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال پر بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔گذشتہ سال نومبر میں کالعدم تحریک طالبان نے حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کردی تھی اور اس کے بعد دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اس کالعدم مسلح گروپ کے حملوں میں تیزی آئی ہے۔

گذشتہ ہفتے پاکستانی فوج کے تحفظات اور خدشات کے جواب میں قطر میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے یقین دہانی کرائی تھی کہ کابل کسی کو بھی افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

انھوں نے کہا کہ ہم باربار واضح کر چکے ہیں کہ ہم کسی کو بھی افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے کیونکہ خطے اور افغانستان میں استحکام ضروری ہے۔ ہم ملک کو علاقائی تجارت اور خوشحالی کا مرکز بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب خطے میں امن اور استحکام ہو۔

معاشی بحالی کی حمایت

شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آج کی کورکمانڈرز کانفرنس میں عسکری قیادت کو معیشت کی بحالی کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے منصوبے اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے دائرہ کار میں زراعت، آئی ٹی، کان کنی،معدنیات اور دفاعی پیداوار کے شعبوں کی بہتری میں فوج کے کردار کے بارے میں تفصیل شامل تھی۔شرکاء نے معیشت کی بحالی کے لیے حکومت پاکستان کے منصوبہ بند تزویراتی اقدامات کی مکمل حمایت کا عزم ظاہر کیا اور عوام کی مجموعی بھلائی کے لیے ہر ممکن تکنیکی اور انتظامی معاونت مہیا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

اس کے علاوہ فورم میں فوج کی آپریشنل تیاریوں اور تربیتی پہلوؤں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔بیان کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ معروضی تربیت ہماری پیشہ ورانہ مہارت کی پہچان ہے اور ہمیں اپنی قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔

اجلاس کے شرکاء نے دہشت گردی کے خطرے کے خلاف مادرِ وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر جوانوں کی لازوال قربانیوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں