پشاور:حیات آباد میں بم حملے میں ایف سی کے 6 اہلکار زخمی،خودکش بمبار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے حیات آباد میں منگل کے روز نیم فوجی دستوں کی گاڑی کے قریب حملے میں چھے اہلکار زخمی ہوگئے ہیں جبکہ حملہ آور ہلاک ہو گیا ہے۔اس حملے کا ہدف فرنٹیئر کور (ایف سی) کا قافلہ تھا۔

پشاور کینٹ کے سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) وقاص رفیع نے دھماکے کی جگہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ایف سی کے قافلے پر کیا گیا تھا۔فوجی قافلہ اس وقت حیات آباد کے فیز 6 سے گذر رہا تھا۔اس حملے کی ذمے داری ایک نئے تشکیل شدہ جنگجو گروپ تحریک جہاد پاکستان نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ٹیلی ویژن پر نشر کی جانے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگوں کا ہجوم اس سڑک پر ہے جہاں مبیّنہ طور پر دھماکا ہوا تھا۔دور سے ایک گاڑی کا جلاہوا ڈھانچا دیکھا جا سکتا ہے۔ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ حملے میں بارود سے لدی ایک گاڑی استعمال کی گئی ہے مگرحتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا اور ابھی مزید تحقیقات جاری ہے۔

ایس پی رفیع نے دھماکے میں چھے افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام ایف سی کے اہلکار ہیں اور انھیں قریب واقع اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلیے ہیں تاکہ واقعہ کی نوعیت کا پتا لگایا جا سکے۔

گذشتہ سال نومبر میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کے بعد سے ملک کے مختلف علاقوں بالخصوص صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ برائے تنازعات اور سلامتی مطالعات (کنفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز) کی حال ہی میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں دہشت گردی اور خودکش حملوں میں مسلسل اور خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ان میں ملک بھر میں 389 افراد مارے گئے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل ، میجر جنرل احمد شریف چودھری نے جون میں ایک نیوزکانفرنس میں بتایا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے رواں سال سراغرسانی کی بنیاد پر13 ہزار 619 انٹیلی آپریشن کیے۔ان میں ایک ہزار 172 دہشت گرد ہلاک یا گرفتار کیے گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ:’’مسلح افواج، پولیس، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے دیگرادارے دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا پانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 77 سے زیادہ کارروائیاں کررہے ہیں۔ان آپریشنز میں پاک فوج کے 95 جوان شہید ہوئے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں