سائفر سے متعلق اعظم خان نے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف بیان ریکارڈ کرا دیا

حقیقت سے سائفر کوئی تعلق نہیں اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، یہ ڈرامہ پری پلان تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے سائفر سے متعلق اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا۔ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان ریکارڈ کرایا۔ اعظم خان آئندہ چند دنوں میں پریس کانفرنس بھی کریں گے۔

ذرائع کے مطابق اعظم خان نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف بیان ریکارڈ کراتے ہوئے سائفر کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔ اعظم خان نے کہا کہ سائفر کے معاملے پر تمام کابینہ ارکان کو ملوث کیا گیا اور تمام لوگوں کو بتایا گیا کہ سائفر کو کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے، سائفر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، سائفر کو صرف سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، یہ ڈرامہ پری پلان بنایا گیا تھا۔

اعظم خان نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے تمام تر حقائق کو چھپا کر سائفر کا جھوٹا اور بے بنیاد بیانیہ بنایا، تحریک عدم اعتماد سے بچنے کے لیے سائفر کو بیرونی سازش کا رنگ دیا گیا۔اعظم خان کے بیان کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سائفر کو غلط رنگ دے کر عوام کا بیانیہ بدل دوں گا۔

عمران خان کے سابق سکریٹری اعظم خان
عمران خان کے سابق سکریٹری اعظم خان

اعظم خان نے بیان میں کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر مجھ سے 9 مارچ کو لے لیا اور بعد میں گم کر دیا، چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر ڈرامے کے ذریعے عوام میں ملکی سلامتی اداروں کے خلاف نفرت کا بیج بویا، منع کرنے کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی نے سیکریٹ مراسلہ ذاتی مفاد کے لئے لہرایا۔

آٹھ مارچ 2022 کو سیکرٹری خارجہ نے اعظم خان کو سائفر کے بارے میں بتایا، شاہ محمود قریشی سابق وزیراعظم کو سائفر کے متعلق پہلے ہی بتا چکے تھے لیکن سابق وزیرا عظم نے سائفر کو اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانیہ بنانے کے لئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے سائفر اپنے پاس رکھ لیا جو کہ قانون کی خلاف ورزی تھی، سائفر واپس مانگنے پر چیئرمین پی ٹی آئی نے اس کے گم ہونے کا بتایا۔

اعظم خان کے مطابق منع کرنے کے باوجود ایک سیکرٹ مراسلہ کو عوام میں ذاتی مفاد کے لیے لہرایا۔ اعظم خان نے پولیس کو بھی اپنی موجودگی سے آگاہ کر دیا۔وفاقی پولیس نے اعظم خان کی موجودگی کی تصدیق کر دی۔

خیال رہے کہ 16 جون 2023 کو بتایا گیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان لاپتا ہو گئے، اہل خانہ کی جانب سے تھانہ کوہسار میں درخواست دے دی گئی۔

درخواست اعظم خان کے بھتیجے کی جانب سے دی گئی،درخواست میں کہا گیا کہ اعظم خان کل شام کو گھر سے نکلے جس کے بعد واپس نہیں آئے۔ اعظم خان کا موبائل فون بھی بند ہے۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی سائفر سے متعلق لیک گفتگو سے متعلق ایف آئی اے تحقیقات کر رہا ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی امریکی سائفر سے متعلق اعظم خان کے ساتھ آڈیو لیک ہوئی تھی۔

مبینہ آڈیو میں عمران خان کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا تھا کہ امریکا کا نام نہیں لینا، بس صرف یہ کھیلنا ہے کہ اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی۔اعظم خان کہتے ہیں کہ میں سوچ رہا اس سائفر کے اوپر ایک میٹنگ کر لیتے ہیں۔ آپ کو یاد تو ہے آخر میں ایمبیسڈر نے لکھا تھا ڈیمارش کر لیں۔

’’وہ میں منٹس بنا لوں گا کہ فارن سیکرٹری نے یہ چیز بنا دی ہے، بس اس کا یہ کام ہو گا، اس کا اینلیسز ادھر ہی ہو گا۔ پھر انلیسز اپنی مرضی کے منٹس میں کر دیں گے تاکہ منٹس آفس کے ریکارڈ پر ہوں،اینلسسز یہ ہو گا کہ یہ تھریٹ ہے۔ ڈپلومیٹک لینگوئج میں اسے تھریٹ کہتے ہیں، دیکھیں منٹس تو پھر میرے ہاتھ میں ہیں،اپنی مرضی سے منٹس ڈرافٹ کر لیں گے۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں