ملک بھر میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی، 5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بارش، نشیبی علاقے زیر آب، باعث نظام زندگی درہم برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ملک بھر میں مون سون سیزن کے دوران شدید بارشوں نے تباہی مچادی، مختلف حادثات میں بچوں سمیت 3 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں شدید بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے، بجلی کی فراہمی کا سلسلہ معطل اور نظام زندگی درہم برہم ہو گیا۔

پنجاب کے دوسرے اضلاع پاکپتن، شکرگڑھ، کرتارپور، نورکوٹ، کوٹ نیناں اور مضافات میں بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ شرقپور شریف شہر اور رینالہ خورد میں تیز بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے جبکہ سڑکوں پرپانی جمع ہو گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سنیچر کے روز لاہور شہر میں بارش کا سلسلہ صبح تقریباً 7 بج کر 15 منٹ پر شروع ہوا اور واسا لاہور کی جانب سے اب تک کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق سب سے زیادہ بارش گلش راوی کے علاقے میں 201 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔

بارشوں کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، انڈر پاسز اور سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔

شدید برسات کے باعث شہر میں جگہ جگہ پانی کھڑا ہے خاص کر لکشمی چوک، جوہر ٹاون، ہربنس پورہ، اقبال ٹاؤن میں پانی جمع ہے۔

بجلی کی فراہمی بند

شہر میں بارش کے بعد بجلی فراہمی کی صورتحال کے حوالے سے ترجمان لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے بتایا کہ بارش کے باعث لیسکو کے 70 فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی سپلائی عارضی طور پرمعطل ہوئی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ لیسکو فیلڈ اسٹاف کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، تاہم شدید بارش کے باعث بجلی بحالی کے کاموں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کے رکتے ہی بجلی بحالی کا کا شروع کر دیا جائے گا۔

ایک بیان میں لیسکو انتظامیہ نے موسم کی خرابی کے پیش نظر صارفین سے بارش کے دوران بجلی کی تنصیبات سے دور رہنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی ہائی وولٹیج تاروں،ٹ رانسفارمر کے نیچے غیر قانونی تعمیرات، اسٹالز یا ٹھیلہ لگانے سے گریز کریں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اپنے بچوں کو خصوصی تاکید کریں کہ وہ گلی محلوں میں کھیلتے ہوئے بجلی کی تنصیبات سے کم از کم 10 فٹ دور رہیں جبکہ بجلی معطل ہونے کی صورت میں لیسکو کو مطلع کرکے عملے کے آنے کا انتظار کریں۔

دریائے راوی میں طغیانی

بارشوں کے باعث دریائے راوی کی سطح بلند ہونے کے بعد پانی کناروں کو توڑتا ہوا ملتان روڈ کے متعدد دیہات میں داخل ہو گیا جس کے باعث ان کا دوسرے علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔

پانی کے ریلے سے نانو ڈوگر ، حکماں کا واڑہ، وستیاں، نولا والہ گاؤں متاثر ہوئے جہاں کہ مکینوں کا کہنا تھا کہ حفاظتی بند کمزور تھا اور اس کی عرصہ دراز سے مرمت نہیں کی گئی تھی جس کے باعث بند ٹوٹا اور پانی دیہاتوں میں داخل ہو گیا۔

مقامی افراد کا کہنا تھا کہ حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی کا ریلا متعدد گاؤں میں داخل ہوا، جس سے سیکٹروں ایکٹر اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں