پیمرا ترمیمی بل کی منظوری، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی شرکت پر وزیر اطلاعات کا اظہار تشکر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پیمرا (ترمیمی) بل 2023ء پر گذشتہ ایک سال کے دوران تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی، تمام اسٹیک ہولڈرز پی ایف یو جے، پی بی اے، ایمنڈ، سی پی این ای اور اے پی این ایس کو آن بورڈ لیا گیا اور ان کی آراء کو بل میں شامل کیا گیا۔

اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے پیمرا (ترمیمی) بل 2023ء منظور کر لیا ہے، یہ بل میں نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ کمیٹی کے ارکان اور میرے درمیان جامع بحث کے بعد کمیٹی نے بل کی منظوری دی۔

انہوں نے کہا کہ پیمرا بل کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے دستخطوں سے حتمی شکل دی گئی، بل کی تیاری میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی فعال شرکت، وقت، کوشش اور قیمتی ان پٹ پر ان کی مشکور ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بل کا بنیادی مقصد صحافیوں کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانا اور پاکستان میں آزاد، ذمہ دار اور اخلاقیات پر مبنی میڈیا ماحول کو فعال کرنا ہے جیسا کہ دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں رائج ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیمرا (ترمیمی) بل مختلف اہم دیرینہ مسائل اور معاملات کو حل کرے گا جن میں چیئرمین پیمرا کے اختیارات کے حوالے سے مسائل سمیت پیمرا اتھارٹی اور شکایات کونسل میں پی ایف یو جے اور پی بی اے کی نمائندگی کے فقدان، صحافیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر اور مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کی تعریف شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بل کی نمایاں خصوصیات اور اس کی تیاری کے لئے وسیع شراکتی اور مشاورتی عمل کی تفصیلات سے پریس کانفرنس میں آگاہ کیا جائے گا۔

قبل ازیں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) ترمیمی بل 2023ءاتفاق رائے سے منظور کر لیا۔

کمیٹی نے پیمرا ترمیمی بل 2023ءکو صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے بل کی تیاری میں حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی کاوشوں کو سراہا۔ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس جمعہ کو ریڈیو پاکستان میں کمیٹی کی چیئرپرسن جویریہ ظفر آہیر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیمی) بل 2023ءاور دی پریس کونسل آف پاکستان (ترمیمی) بل 2023ءپر غور کیا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پیمرا (ترمیمی) بل 2023ءکے مندرجات پر قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا آرڈیننس 2002ءکے بعد پیمرا قانون میں پہلی مرتبہ ترمیم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا بل پر اپریل 2022ءمیں کام شروع ہوا، اس کی تیاری میں 13 ماہ کا عرصہ لگا جبکہ اس دوران تمام اسٹیک ہولڈرز سے طویل مشاورت ہوئی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ میڈیا کا پورا منظر نام بدل چکا ہے، پیمرا قانون میں ترمیم وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا ترمیمی بل کے تحت پہلی مرتبہ صحافیوں کو شکایات کونسل میں اپنی شکایت درج کروانے کا اختیار دیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے صحافی کو تنخواہ مانگنے پر نوکری سے فارغ کر دیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کسی چینل کو بند کرنے کا اختیار چیئرمین پیمرا کے پاس تھا لیکن اب اس قانون کے تحت یہ اختیار تین رکنی کمیٹی کے پاس ہوگا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ماضی میں پی ایم ڈی اے جیسا کالا قانون لانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ فیک نیوز، ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن کی تشریح بل میں شامل کی گئی ہے، ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن پر علیحدہ علیحدہ کام کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دانستہ غلط خبر چلانے پر جرمانہ دس لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کسی چینل پر غلط خبر چلے تو یہ کہا جاتا تھا کہ صحافی نے یہ خبر ذاتی حیثیت میں دی، اب اسے چینل سے منسلک کر دیا ہے۔

انہوں نے کمیٹی کے ارکان کو بتایا کہ پیمرا قانون کی 9 سیکشنز میں ترامیم جبکہ پانچ نئی شقوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ پیمرا بل میں پیمرا قانون کی شقوں 2، 6، 8، 11، 13، 24، 26، 27، 29 میں ترامیم کی گئی ہیں جبکہ اس بل میں 20، 20 اے، 29 اے، 30 بی، 39 اے کی نئی شقوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بل کے ابتدایئے میں خبر کی جگہ مصدقہ خبر، تحمل و برداشت، معاشی و توانائی کی ترقی، بچوں سے متعلقہ مواد کے الفاظ شامل کئے گئے ہیں، بل کے تحت عوام کی تفریح، تعلیم اور معلومات کے دائرہ کو وسیع کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا، مصدقہ خبروں، معاشرے میں تحمل و برداشت کے فروغ کا مواد اپنی نشریات میں استعمال کرے گا، عمومی ترقی، توانائی، معاشی ترقی سے متعلق مواد بھی نشریات میں شامل کیا جائے گا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ بل میں الیکٹرانک میڈیا کو ملازمین کی بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کا پابند بنایا گیا ہے۔ بروقت ادائیگی سے مراد الیکٹرانک میڈیا ملازمین کو دو ماہ کے اندر کی جانے والی ادائیگیاں ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کو پیمرا اور شکایات کونسل کے تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کے تمام فیصلوں، احکامات کی پاسداری کا پابند بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر وفاقی اور صوبائی سطح پر حکومتی اشتہارات متعلقہ الیکٹرانک میڈیا کو فراہم نہیں کئے جائیں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ براڈ کاسٹ میڈیا کا لائسنس 20 سال کے لئے اور ڈسٹری بیوشن لائسنس 10 سال کے عرصے کے لئے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا پر معمول کے پروگرام کے دوران اشتہار کا دورانیہ پانچ منٹ سے زیادہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی کے زمرے میں آنے والی خلاف ورزی اس بل کے تحت ”سنگین خلاف ورزی“ تصور ہوگی۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ ایک تاریخی بل ہے، پیمرا قانون میں پہلی مرتبہ پی ایف یو جے اور پی بی اے کو نمائندگی دی گئی ہے جبکہ ٹی وی چینل کے ضابطہ کار میں ”ڈس انفارمیشن“ نشر نہ کرنے کی شرط بھی شامل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام الناس، اداروں اور دیگر شکایات کے ازالے کے لئے اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں شکایات کونسلز بنائی جائیں گی۔ شکایات کونسلز الیکٹرانک میڈیا میں کم از کم تنخواہ کی حکومتی پالیسی، بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کے نفاذ کو یقینی بنائیں گی۔

شکایات کونسل ایک چیئرمین اور پانچ ارکان پر مشتمل ہوگی، اس میں کام کرنے والے افراد کی مدت دو سال ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا کے فیصلوں کے خلاف متعلقہ صوبے کی ہائی کورٹ میں اپیل کی جا سکے گی۔ اس موقع پر کمیٹی کی رکن نفیسہ شاہ نے کہا کہ بل میں ترامیم کا جائزہ لینے کے لئے ہمیں وقت دیا جائے جس پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بل کے حوالے سے تمام چیزیں آپ کو مہیاءکر دی گئی ہیں، اس بل میں 9 ترامیم کی گئی ہیں جبکہ پانچ نئی شقوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔

نفیسہ شاہ نے کہا کہ کسی بھی بل کی تیاری میں حکومت ایک سال لگا لیتی ہے لیکن کمیٹی کو کہا جاتا ہے کہ ہمارے پاس ایک دن کا وقت ہے۔ کمیٹی ممبران کو بھی وقت دیا جائے تاکہ مذکورہ بل کو پرکھا جا سکے۔ کمیٹی کی رکن زیب جعفر نے کہا کہ بل کو کمیٹی میں منظور کیا جائے۔ کمیٹی کی رکن ناز بلوچ نے کہا کہ کیا چینلز کا آڈٹ کیا جاتا ہے جس پر چیئرمین پیمرا نے کہا کہ ٹی وی چینلز اپنی سالانہ آڈٹ رپورٹ جمع کروانے کے پابند ہیں۔

بعد ازاں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے پیمرا (ترمیمی) بل 2023ءاتفاق رائے سے منظور کرلیا۔ اجلاس میں کمیٹی کی ارکان نفیسہ شاہ، زیب جعفر، ناز بلوچ سمیت وفاقی سیکریٹری اطلاعات سہیل علی خان، چیئرمین پیمرا سلیم بیگ اور ڈی جی ریڈیو طاہر حسن نے شرکت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں