ہندوستانی تارکین وطن کئی عشروں سےکراچی میں تامل کھانوں کا ذائقہ زندہ رکھے ہوئے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

1930ء میں روی شنکر سوامی کے دادا بہتر زندگی کی تلاش میں جنوبی ہندوستان کی ریاست، تامل ناڈو سے ہجرت کر کے ساحلی شہر، کراچی آ بسے۔ سوامی کا خاندان ان چند دیگر خاندانوں میں سے ایک تھا جو تامل کھانوں کا لذیذ ذائقہ اپنے ساتھ لائے، یہ ذائقہ کئی عشروں کے دوران تبدیلیوں سے گذرتا رہا اور اس نے موجودہ پاکستان میں عام دستیاب اجزائے ترکیبی اختیار کر لیے ہیں۔

جنوبی پاکستان کا صوبہ سندھ، دراوڑی نسلی لسانی گروہ کی ایک مختصر تامل برادری کا مسکن ہے جس نے 1930 کے عشرے میں جنوبی ہندوستان سے یہاں ہجرت کی۔ سوامیوں اور اس برادری کے دیگر افراد کے مطابق، پاکستان میں اس وقت تقریباً 5000 تامل افراد سکونت پذیر ہیں جن میں مسلم، ہندو، اور عیسائی شامل ہیں۔ ان میں سے چند خاندان برصغیر کی تقسیم سے قبل، انگریزوں کے زمانے سے کراچی کے تجارتی مرکز میں آباد اور خورد و نوش کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔

یہ مختصر برادری ریاست تامل ناڈو کی سرکاری زبان، تامل بولتی ہے جبکہ ان کے نمایاں پکوانوں میں دوسا (کالے مسور اور چاولوں کے خمیر شدہ آمیزے سے بنی ہوئی ایک پوری یا پراٹھا نما)، ادلی (چاولوں کا کیک جو عموماً ناشتے میں کھایا جاتا ہے)، اپما (خشک بھنی ہوئی سوجی سے بنا لذیذ گاڑھا دلیہ)، اور وڑا (پسے ہوئے چنوں اور دالوں سے بنی اور تلی ہوئی لذیذ چپاتی) شامل ہیں۔

22 جولائی 2023 کی اس تصویر میں کراچی، پاکستان میں سوامی خاندان کو دیکھا جا سکتا ہے۔ (اے این فوٹو)
22 جولائی 2023 کی اس تصویر میں کراچی، پاکستان میں سوامی خاندان کو دیکھا جا سکتا ہے۔ (اے این فوٹو)

کراچی میں ایک سافٹ ویئر ہاؤس کے مینجر، 41 سالہ سوامی نے عرب نیوز کو بتایا کہ "سالوں کے عرصے میں کھانے (جو ہم پاکستان میں بناتے ہیں) ایک تغیر سے گذرے ہیں۔ یہ پاکستانی کھانوں کی طرز پر بننے لگے ہیں۔ ان میں کچھ مصالحہ جات یہاں کے بھی شامل ہو گئے ہیں۔ (اسی طرح) جو تامل، سری لنکا میں ہیں، ان کے پکوان سری لنکا کے کھانوں سے متأثر ہوئے ہیں۔"

سوامی خاندان کے مطابق، تامل پکوانوں کی ابتدا ریاست تامل ناڈو سے ہوئی جس کی ایک شاندار تاریخ ہے۔

سوامی کی بہن، سونیتا سوامی نے تلنے کے لیے آمیزہ بناتے ہوئے کہا کہ "ہم شادیوں میں ابٹن کی رسم میں وڑا بناتے ہیں۔ ہماری ثقافت میں یہ صبح کے وقت ہوتا ہے اس لیے ہم دال چاول اور یہ (وڑا) بناتے ہیں۔ ان کو زیادہ دیر تلتے ہیں۔"

یہ لذیذ کچوری نما چنوں اور دالوں سے بنتا ہے جن کو ایک رات پہلے پانی میں الگ الگ بھگو کر پیس لیتے ہیں۔

جب برطانوی حکومت میں کراچی کا جنوبی ایشیائی ساحلی شہر خوب ترقی کر رہا تھا تو سوامی کے دادا دادی یہاں منتقل ہو گئے۔ یہ شہر اب ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ آبادی کا پررونق شہر ہے۔ سوامی کی دوسری بہن، رینوک سوامی کے مطابق، اس وقت پاکستان میں ان کی چوتھی نسل رہائش پذیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب سے قطع نظر، کھانے اور زبان نے دنیا بھر میں تاملوں کو یکجا کر رکھا ہے۔

رینوک نے کہا کہ "(اس وقت) کولاچی (کراچی کا سابقہ نام) ایک ابھرتا ہوا تجارتی مرکز تھا۔ تو وہ (دادا) 1930ء کے عشرے کے اواخر میں کسی سال بہتر زندگی کی خاطر یہاں آ گئے۔ سندھ اور بالخصوص کراچی میں تقریباً 300 گھر ہیں۔ یہ کراچی کے مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جس زمین پر تامل (زبان) اجنبی ہے، اس نے گویا لوگوں کو ایک دوسرے سے ملا دیا۔"

سوامی کی والدہ، انندانم سوامی نے کہا کہ خاص مواقع پر وہ دوسا بناتے ہیں کیونکہ یہ کافی محنت طلب ہوتا ہے۔

انندانم کے مطابق، پہلے چاول اور کالے مسور کو الگ الگ پیس کر، پھر تڑکا (اچھی طرح چھانے ہوئے مصالحہ جات اور پیاز کو گرم گھی یا تیل میں سرخ کرنا) لگاتے ہیں۔ پھر اسے تھوڑے سے آئل میں نان سٹک برتن میں تل لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ہندوستان میں تو لوگ تقریباً روز ہی یہ بناتے ہیں۔ اب یہ ہر جگہ مل جاتا ہے لیکن اس کی ابتدا تامل ناڈو میں ہوئی۔ پہلے صرف یہ تامل لوگ بناتے تھے۔ اس میں چٹنی بھری جاتی ہے۔ یہ لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ اس میں آلو بھی بھرتے ہیں۔ تامل اسے چٹنی بھر کر ہی بنائیں گے۔ اب کئی نئی چیزوں کا اضافہ ہوگیا ہے۔"

سوامی کے مطابق، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ دوسا صرف تامل کھانا ہے لیکن حقیقت میں تامل کھانوں میں چاول کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ (تامل کھانا) یہاں (پاکستان میں) 1940ء سے تھا لیکن دوسا کے ساتھ یہ 90 کے عشرے کے اوائل یا اواخر میں سامنے آیا۔ میرے والد بتاتے تھے کہ شروع میں انہوں نے کبھی روٹی نہیں کھائی۔ چاول ہی سب کچھ تھے۔ تامل ایک چاول خور قوم ہے۔ روٹی بعد میں آئی۔ اگر آپ چاول نہ کھائیں تو آپ تامل نہیں ہیں۔ ہم یہی سنتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں