کشتی حادثات کے بعد پاکستانیوں کی یورپ پہنچنے کی امیدیں دم توڑ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش میں لیبیا میں کئی ہفتے گارنے کے بعد، محمد نعیم بٹ واپس پلٹ آیا ایک ایسا سفر ترک کر کے جو پہلے ہی اس موسم گرما میں سینکڑوں پاکستانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن چکا ہے۔

پاکستان کی وادی کشمیر میں ایک ٹرک میں ریت لادتے ہوئے اس نے کہا کہ گذشتہ ماہ یونان میں ماہی گیری کا ایک پرہجوم ٹرالر غرق گیا تو اس نے بہتر زندگی کے لیے اپنا خوفناک ارادہ ترک کر دیا۔

ڈوب جانے والے 600 افراد میں سے تقریباً 350 پاکستانی تھے جن میں سرسبز وادی کشمیر میں بٹ کے آبائی علاقے، کھوئی رٹہ کے 24 افراد شامل تھے۔ بٹ نے اے ایف پی کو بتایا۔ "پلٹ کر دیکھوں تو احساس ہوتا ہے کہ میں نے جو خطرہ مول لیا، وہ اس لائق نہ تھا۔"

بٹ کھوئی رٹہ کے ان کئی افراد میں سے ایک ہیں جنہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس تباہ کن حادثے نے انہیں لیبیا پہنچ جانے کے بعد سفر ختم کرنے پر آمادہ کر دیا۔

انہوں نے کہا، "زندگی (کی خوشی) کا پیمانہ وہ اچھا وقت ہے جو آپ بیوی بچوں کے ساتھ گذارتے ہیں، نہ کہ یہ کہ جیب پیسوں سے بھری ہو۔"

ہزاروں نوجوان آدمیوں نے اپنے خاندان کی جمع پونجی ان ایجنٹوں کے حوالے کر دی جو انہیں یورپ سمگل کرتے ہیں، جہاں سے وہ زر مبادلہ کما کر گھر کو بھیج سکتے ہیں. جو بالخصوص پاکستان کے گذشتہ سال مالی بحران کا شکار ہونے کے بعد اور زیادہ قیمتی ہو گیا ہے۔

پاکستانی ورکر محمد نعیم بٹ۔ فوٹو اے ایف پی
پاکستانی ورکر محمد نعیم بٹ۔ فوٹو اے ایف پی

بٹ نے 22 لاکھ (تقریباً 7500 امریکی ڈالر) کا بندوست کرنے کے لیے اپنے رشتے داروں اور احباب سے مدد لی اور اس کی بیوی نے اپنی شادی کا قیمتی زیور فروخت کر ڈالا۔ یہ رقم یورپ لے جانے والے انسانی سمگلروں کو دینی تھی۔

اس کے سفر کا پہلا حصہ کسی ہلچل کے بغیر تھا -- دبئی اور مصر کے لیے تجارتی پروازیں تھیں، پھر جب لیبیا کے لیے اوورلینڈ ہوا تب اس کی اصل آزمائش شروع ہوئی۔

اس نے ایک عارضی جھونپڑی نما خیمے میں 600 اور تارکینِ وطن کے ساتھ دو ماہ اس دن کے انتظار میں گذارے جب بحیرۂ روم کے اس پار سفر کے لیے کارگو بحری جہاز پر سوار ہونا تھا۔

اہل خانہ کی ذہنی اذیت

بٹ نے بتایا کہ اس کی بجائے انہیں ماہی گیری کی ایک کمزور اور متزلزل کشتی میں بھر دیا گیا اور انہوں نے 8 دن بین الاقوامی پانیوں میں ڈولتے اور ڈگمگاتے ہوئے گذارے جہاں لیبیا کے ایک بحری جہاز نے پہلے ان کی کشتی پر فائرنگ کی اور پھر اسے زوردار ٹکر ماری۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ صرف پانی پر تیرتے رہے کیونکہ جب ایک طوفان آیا تو بحریہ کا جہاز انہیں چھوڑ گیا۔ لیکن یہ کچھ دن بعد انہیں رسے کی مدد سے کھینچ کر واپس بندرگاہ پر لے گیا، جہاں انہیں جیل میں ڈال دیا گیا۔

"وہ ہمیں بس اتنا کھانا دیتے تھے کہ ہم زندہ رہ سکیں۔۔ میکرونی یا ابلے ہوئے چاولوں کی ایک پلیٹ پانچ افراد مل کر کھاتے تھے۔" بٹ نے بتایا۔
"وہ سفاک لوگ تھے۔"

پاکستانی ورکر محمد نعیم بٹ اپنے بچوں کے ہمراہ۔ اے ایف پی
پاکستانی ورکر محمد نعیم بٹ اپنے بچوں کے ہمراہ۔ اے ایف پی

جب وہ جیل میں تھے تو تارکینِ وطن کو یونان لے جانے والی کشتی ڈوبنے کی خبر ان کے آبائی علاقے میں پہنچ گئی جس سے ان کے خاندان کو دلی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔

بٹ کی بیوی، مہوش مطلوب نے اے ایف پی کو بتایا کہ "میں اس ایک ہفتے میں جس اذیت اور درد سے گذری، اسے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔"
شال میں لپٹی ہوئی 31 سالہ خاتون نے بتایا کہ "یوں لگا جیسے میری تمام دنیا بکھر گئی ہو۔"

بٹ نے آخرکار جیل سے رہا ہو کر اہلِ خانہ کو اپنے زندہ ہونے کی اطلاع دی۔

ان کی والدہ، 76 سالہ رضیہ لطیف کہتی ہیں کہ وہ اس بات پر شرمندہ ہیں کہ ان کے بیٹے نے اتنے خطرات جھیلے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے سوچا دوسرے لوگ یورپ جا رہے ہیں تو اسے بھی کیوں نہ بھیج دیں۔ اگر ہمیں پتا ہوتا کہ یہ اس قدر مشکل تھا تو ہم بھیک مانگ کر گذارہ کر لیتے۔"

'طمع' اور خطرہ

ترک وطن کی بین الاقوامی تنظیم نے بحیرۂ روم کے بحری راستے کو بیرونِ ملک جانے والا دنیا کا پرخطر ترین راستہ قرار دیا ہے۔

صرف اس سال کے دوران یہاں تقریباً 1728 تارکینِ وطن لاپتہ ہو چکے ہیں۔ جو 2022ء میں ریکارڈ کردہ 1417 گمشدگیوں سے زیادہ تعداد ہے۔
لیکن جو خاندان اپنے ایک دو نوجوان آدمی باہر بھیج دیتے ہیں، وہ ان کی گھر بھیجی ہوئی رقم سے خوشحال ہو سکتے ہیں۔

کشمیر کے انسانی حقوق فورم گروپ کے ظفر اقبال غازی نے کہا کہ "جن خاندانوں کے افراد یورپ میں ہیں اور جن کے نہیں ہیں، ان کے درمیان قابلِ توجہ فرق و تفاوت حسد کا سبب بن رہا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ "اگر کسی کا گھر ایک منزلہ ہے تو اس سے اگلا ہی گھر آپ کو تین منزلہ ملے گا، اور اس سے بڑے مکانات اور بہت کچھ۔"
اور ملک سے باہر امارت و خوش حالی کی ان کہی داستانیں ان لوگوں تک کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہیں جو مقامی معیارات کے لحاظ سے اچھے خاصے امیر ہیں۔

حمزہ بھٹی سعودیہ میں بطور ڈرائیور دو لاکھ روپے (تقریباً 700 امریکی ڈالر) کما رہا تھا - جو اس کی بیوی اور آٹھ مہینے کے بیٹے کی آرام سے کفالت کرنے کے لیے کافی تھے - لیکن وہ پھر بھی یورپ کے سہانے خواب دیکھتا تھا۔

29 سالہ حمزہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ "مجھے یقین تھا کہ میرے سعودیہ کے تجربے کی نسبت یورپ میں زندگی زیادہ پررونق اور رنگین ہو گی۔"
بھٹی کی کشتی جب لیبیا کے حکام نے واپس بندرگاہ بھیجی اور اسے جیل کی سزا ہو گئی تو اس نے خود کو بٹ کے ساتھ پایا جب کشتی ڈوبنے کی خبر ملی۔
اس نے کہا کہ "یہ میری لالچ اور طمع تھی جو مجھے موت کے دہانے تک لے گئی۔"

سمگلنگ ایجنٹس کی گرفتاری

غازی نے کہا کہ گذشتہ سال صرف کھوئی رٹہ سے 175 نوجوان غیرقانونی طریقے سے یورپ گئے اور انہیں یقین ہے کہ یونان میں کشتی حادثے کے بعد آنے والا وقفہ محض عارضی ہو گا۔

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے بتایا کہ گذشتہ ماہ شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے بعد سے 69 سمگلنگ ایجنٹ گرفتار ہوئے ہیں، لیکن قانونی چارہ جوئی مشکل ہوگی۔

ادارے کے ایک اہلکار نے شناخت ظاہر کیے بغیر اے ایف پی کو بتایا کہ "چیلنج درحقیقت اس بات کا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر نوجوانوں کے پاس دبئی کے درست ویزے ہیں جہاں سے یہ لیبیا کے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات تھوڑی ہے اور یونان کشتی حادثے کے بعد یہ ختم نہیں ہوگا۔"

پاکستانی شہری عادل حسین اپنے بھائی کے حادثے کا شکار ہونے والی کشتی پر سفر کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔ رائٹرز
پاکستانی شہری عادل حسین اپنے بھائی کے حادثے کا شکار ہونے والی کشتی پر سفر کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔ رائٹرز

یورپی یونین کے قانون سازوں نے رکن ریاستوں کو مدد فراہم کرنے کے لیے برسلز پر زور دیا ہے تاکہ ان کی سمندری ریسکیو کرنے کی اہلیت کو مضبوط کیا جائے لیکن تارکینِ وطن کے حوالے سے یورپ بھر میں رویہ سخت ہو رہا ہے جبکہ یونان سیاسی پناہ کے متلاشیوں کے لیے فوائد میں مسلسل کمی کر رہا ہے۔

مہوش کہتی ہیں کہ "ان کا شوہر (نعیم بٹ) اب کبھی ایسے سفر کی کوشش نہیں کرے گا- حالانکہ سمگلروں نے اس کی جزوی رقم اس امید پر واپس کر دی ہے کہ وہ اس واقعے کی رپورٹ نہ کروائیں۔"

انہوں نے کہا کہ "مجھے زیور چلے جانے کا افسوس نہیں ہے اور میں غربت میں بھی صبر شکر کر لوں گی جب تک یہ (شوہر) میرے ساتھ ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں