عبوری حکومت کواضافی اختیارات دینے کے لیے الیکشن ایکٹ میں ترمیمی بل منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستان کی پارلیمان نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت نگران حکومت کو موجودہ دوطرفہ یا کثیرالجہت معاہدوں اور منصوبوں کے حوالے سے اقدامات یا فیصلوں کا اختیار دیا گیا ہے۔

وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے الیکشن (ترمیمی) بل 2023 پیش کیا۔حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ عبوری سیٹ اپ کو منتخب حکومت کی طرح اختیارات تفویض کرنے کے لیے ایک ترمیم متعارف کرائی جا رہی ہے۔وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ شفاف انتخابات کے حوالے سے گذشتہ تجربے کو دیکھتے ہوئے یہ اصلاحات کی گئی ہیں۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اتحادیوں اور اپوزیشن اراکین کے اعتراضات واپس لیے جانے کے بعد الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2023 کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بدھ کودوسرے روز بھی جاری رہا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے انتخابی اصلاحات پر گذشتہ روز اٹھائے گئے اعتراضات پر وضاحت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن اور اتحادیوں کے اعتراضات تسلیم کرلیے۔

انھوں نے شق وار منظوری کے بعد اجلاس کے اختتامی مرحلے پر الیکشن ایکٹ 2017 ترمیمی بل 2023 پیش کیا جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے ایوان کی کارروائی پیر 7 اگست دوپہر 12 بجے ملتوی کردی۔

اس سے قبل جب پارلیمان کے مشترکہ اجلاس شروع ہوا تو وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے حکومت کی اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کی جانب سے نگران حکومت کو اختیار دینے کی شق 230 پر اٹھائے گئے اعتراضات تسلیم کرتے ہوئے بتایا کہ بل کا نیا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے۔اس شق کے علاوہ جتنی شقیں شامل کی گئی ہیں،ان پر کسی کو اعتراض نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ شق 230 کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ترمیم کل کی گئی حالانکہ یہ ترمیم 5 روز قبل وٹس ایپ اور ای میل کر دی گئی تھی۔انھوں نے کہا کہ آج دوبارہ بحث کرنے کے بعد تقرر اور تبادلے سے متعلق شق کو واپس لے لیا گیا ہے اور اب نیا ڈرافٹ تمام ارکان کو شیئر کیا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سلیم مانڈوی والا نے جو ترامیم دی ہیں وہ کافی بہتر ہیں، شفاف انتخابات کے حوالے سے گذشتہ تجربے کو دیکھتے ہوئے یہ اصلاحات کی گئی ہیں۔اس موقع پراتحادی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی(پی پی پی) کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ مجھے بل کی دیگر شقوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے، آج دن تک ہم نے پڑھا تھا کہ ان ممالک کا کیا حال ہوتا ہے جو عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔

انھوں نے آئی ایم ایف کی شرائط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے کہا گیا کہ ان کے پورا ہونے کے بعد معاہدہ ہوسکتا ہے، شرائط مکمل ہونے کے باوجود عملہ کی سطح پر معاہدہ نہیں ہوا، اس کے بعد وزیر اعظم کی مداخلت پر معاہدہ ہوا۔انھوں نے کہا کہ یہ پہلی دفعہ ہوا لیکن وزیر اعظم نے ملک کے لیے کیا، بین الاقوامی سامراج کے نمائندے سیاسی جماعتوں سے ملے، یہ کہاں ہوتا ہے،آپ کا معاہدہ حکومت پاکستان کے ساتھ تھا، آپ کو یہ اجازت نہیں کہ آپ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملاقاتیں کریں۔

رضاربانی کا کہنا تھا کہ یہ ملک کی خود مختاری کے خلاف ہے، آج ہمیں اپنی آئینی اسکیم سے ہٹنا پڑا، پہلے قومی مفاد کا منترا استعمال ہوتا تھا، اب معاشی مفادات اور سلامتی کے مفادات کا منترا استعمال ہوتا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز نے اس موقع پر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں کورم کی نشان دہی کی، جس پر اسپیکر نے ارکان کی گنتی کا حکم دیا اور گنتی کے بعد ارکان کی مطلوبہ تعداد ایوان میں موجود پائی گئی اور اجلاس جاری رہا۔

الیکشن ایکٹ 2023 میں 54 ترامیم کو شامل کیا گیا ہے اور شق 230 میں بھی ترمیم مجوزہ بل کاحصہ ہے۔بل میں الیکشن ایکٹ کی شق 230 کی ذیلی شق 2 اے میں ترمیم شامل ہے جس کے تحت نگران حکومت کواضافی اختیارات حاصل ہوں گے۔

ترمیم کے تحت نگران حکومت کو ملکی معیشت کے لیے ضروری فیصلوں کا اختیار ہوگا اور نگران حکومت بین الااقوامی اداروں اور غیرملکی معاہدوں کی مجاز ہوگی۔وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور سردار ایاز صادق نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں انتخابی اصلاحات کے بل سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں کو شق 230 لانے پر اعتراض تھا۔یہ غلط فہمی تھی کہ اس شق کے ذریعے نگران حکومت کو اختیارات دینے کا مقصد اس کو طویل مدت تک چلانا ہے۔

انھوں نے کہا کہ آج عالمی بینک کے نمائندے میرے پاس آئے جن کو تشویش تھی کہ موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد مختلف ترقیاتی منصوبوں کے معاہدوں پر عمل درآمد کیسے ہوگا۔اس لیے اس بات پر غورکیا گیا کہ ایک ایسا راستہ نکالا جائے جس سے ان معاہدوں کا تسلسل برقرار رہے۔خیال رہے کہ گذشتہ روز پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں حکومتی اتحادی جماعتوں کے سینیٹروں اور اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی نے الیکشن ایکٹ 2017 کے مجوزہ سیکشن 230 کی مخالفت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں