نگراں حکومت کے لیے اضافی اختیارات کے بل کا مسودہ پارلیمنٹ میں پیش ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

نگراں حکومت کو اضافی اختیارات کا بل آج بروز بدھ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ منظوری ملی تو نگراں حکومت معیشت کے لیے ضروری فیصلے کر سکے گی، بین الااقوامی اداروں اور غیر ملکی معاہدوں کی مجاز ہو گی۔

انتخابی اصلاحات سے متعلق الیکشن ایکٹ 2023 کے بل کا مسودہ ذرائع ابلاغ پر خبروں کا موضوع بنا ہوا ہے۔

انتخابی اصلاحات کیلئے مجوزہ بل میں 54 ترامیم شامل ہیں۔ نگران حکومت کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے گا۔ الیکشن ایکٹ کی شق 230 کی سب کلاز 2 اے میں ترمیم تجویز کی گئی ہے۔

پریزائیڈنگ افسر الیکشن کی رات 2 بجے تک نتائج دینے کا پابند ہو گا، نتیجہ فوری طور پر الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسر کو بھیجنے کا پابند ہوگا۔

حتمی نتیجے کی تصویر بنا کر ریٹرننگ افسر اور الیکشن کمیشن کو بھیجے گا، پریزائیڈنگ افسر کے پاس الیکشن نتائج کے لیے اگلے دن صبح 10 بجے تک کی ڈیڈ لائن ہوگی، غفلت پر پریزائیڈنگ اور ریٹرنگ افسر کیخلاف سیکشن 184 کے تحت فوجداری کارروائی ہوگی۔

سیکیورٹی اہلکار پولنگ اسٹیشن کے باہر ڈیوٹی دیں گے، ہنگامی صورتحال میں پریذائیڈنگ افسر کی اجازت سے اندر آ سکے گا، الیکشن کمیشن پولنگ عملے کی تفصیلات ویب سائٹس پر جاری کرے گا۔

بل میں یہ ترمیم بھی شامل ہے کہ کسی سرکاری یا نیم سرکاری بورڈ کا رکن یا اعزازی رکن الیکشن لڑ سکے گا، بطور بورڈ ممبر اعزازیہ لینے پر بھی نااہل نہیں ہو گا۔

انتخابی حلقہ بندیاں مساوی ووٹوں کی بنیاد پر ہوں گی، مختلف حلقوں کے ووٹرز کی تعداد میں 5 فیصد سے زیادہ فرق نہیں ہوگا۔

قومی اسمبلی کی نشست کیلئے انتخابی اخراجات 1 کروڑ، صوبائی نشست کیلئے 40 لاکھ کرنے کی تجویز ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں