چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سپریم کورٹ نے توشہ خانہ فوجداری کیس کا ٹرائل روکنے کی چیئرمین پی ٹی آئی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی، الیکشن کمیشن حکام اور وکیل امجد پرویز سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، عمران کی جانب سے وکیل خواجہ حارث پیش ہوئے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے دو رکنی بینچ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر سماعت کی۔

سماعت شروع ہونے سے قبل کمرہ عدالت کے باہر شور شرابے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ حارث آپ باہر جا کر معاملات کو دیکھیں، ہم ایسے مقدمہ کو نہیں سن سکتے، عدالت کی عزت و احترام سب پر لازم ہے، یہ آپ کی اور درخواست گزار کی ذمہ داری ہے کہ عدالت کی تکریم کو یقینی بنائیں، ہم ایسے سماعت نہیں کر سکتے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے کمرہ عدالت آنے کے باوجود شور شرابہ نہ رکنے پر ججز اٹھ کر چلے گئے، کمرہ عدالت کے باہر خاموشی ہونے پر دو رکنی بینچ نے سماعت دوبارہ شروع کی، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ معاملہ ہائی کورٹ کو بھجوا رہے تو ٹرائل کیسے روک دیں۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ہائی کورٹ کا حکم چینلج کریں گےتو تفصیل سے سن کر مناسب حکم جاری کریں گے، ابھی تو ہائی کورٹ نے براہ راست کوئی حکم نہیں دیا جس پر وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو سات روز میں فیصلے کا حکم دیا تھا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ہائیکورٹ کے حکم پر عمل ہو چکا، ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی کل سماعت کے لیے مقرر ہے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ کیس میں دائرہ اختیار سے متعلق نکتہ بنیادی اور اہم ہے، ہم ہائی کورٹ کو کوئی حکم نہیں دے رہے، ماتحت عدلیہ سے متعلق ایڈوائزری اختیار سماعت ہائی کورٹس کے پاس ہے، ہم تو صرف ہائی کورٹ سے درخواست کر سکتے ہیں، میرے خیال میں ہمیں اس وقت اس معاملے میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔

عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف کی ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے حکم دیا کہ وکیل درخواست گزار اور ڈی جی لا الیکشن کمیشن دونوں نے اتفاق کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہلے دونوں درخواستوں کو سن کر فیصلہ کرے۔

درخواست گزار کی جانب سے توشہ خانہ ٹرائل کورٹ کے جج پر اعتراض کی درخواست ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے، درخواست گزار نے ہائی کورٹ کے مقدمہ ٹرائل کورٹ میں منتقل کرنے کے فیصلے کو بھی چیلنج کر رکھا ہے۔ عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے حکم دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ دونوں درخواستوں کو سن کر فیصلہ کرے۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ فوجداری کیس میں جرح کے دوران دستاویزات طلبی کی استدعا مسترد ہونے اور توشہ خانہ فوجداری کیس سننے والے جج کے خلاف مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے اور گرفتاری سے روکنے کی چیئرمین پی ٹی آئی کی 2 درخواستیں قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں