"سعودی ویژن 2030 آئی ٹی فرمز کے لیے بے شمار مواقع فراہم کرے گا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کی ایک بڑی ٹیک کمپنی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے اپنی معیشت کو متنوع بنانے کے لیے جو ویژن 2030ء متعارف کروایا ہے، اس میں پاکستان کی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے بےشمار مواقع ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے "تنوع پذیری اور اختصاص" کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

سعودی عرب ویژن 2030ء کے تحت جدید خطوط پر اپنی معیشت کو مستحکم کر رہا ہے جو تزویراتی ترقی کا ایک لائحہ عمل ہے تاکہ مملکت کے تیل پر انحصار کو گھٹایا جاسکے۔ اس کا مقصد مملکت میں عوامی خدمت کے شعبوں مثلاً صحت، تعلیم، انتظامی ڈھانچے، تفریح، اور سیاحت کو ترقی دینا ہے۔
عرب نیوز کو ایک انٹرویو میں پاکستانی آئی ٹی ماہر، آصف پیر نے کہا کہ پاکستان میں تمام شعبوں میں کام کرنے والوں کے لیے ایک بڑی مارکیٹ ہے بالخصوص آئی ٹی کا شعبہ۔ 1977ء میں قائم شدہ پیرز' سسٹمز لمیٹیڈ' کو ملک کی اولین آئی ٹی کمپنی ہونے کا اعزاز حاصل ہے جس کا مارکیٹ سرمایہ 128 بلین (444ملین ڈالر) اور ریونیو کی پیداوار 2022ء کے مالی سال میں 20.64 بلین (69ملین ڈالر) روپے تھی۔

آصف پیر نے کہا کہ "سعودی اداروں، تجارتی کمپنیوں، اور سب سے بڑھ کر عوامی شعبے کا پیسہ، اور حکومت جو کافی زیادہ اقدامات کر رہی ہے، سب کا رخ زیادہ تر ٹیکنالوجی کی طرف ہے۔"

انہوں نے کہا کہ "اگر کسی کو یہ معلوم ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔ یہاں ہر ایک کے لیے بےشمار مواقع ہوں گے۔" انہوں نے مزید اس بات کا اضافہ کیا کہ "تنوع پذیری اور اختصاص کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔"

پیر کی فرم، ریوینیو کا 80 فیصد شمالی امریکہ، یورپ، مشرقِ وسطیٰ، اور افریقہ میں مختلف ممالک کو سروسز کی برآمدات سے اور 20 فیصد سے کم حصہ ملکی مارکیٹ سے حاصل کرتی ہے۔ یہ پہلے ہی یو اے ای، سعودیہ، قطر، مصر، سنگاپور، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا، اور نیدرلینڈز میں وسیع پیمانے پر موجود ہے۔

تاہم پیر نے کہا کہ پاکستانی کمپنیوں کو ویژن 2030ء میں آنے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان سے باخبر ہونا ضروری ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی سمیت ویژن 2030ء کے کئی پہلو ہیں لیکن ٹیک، کاروبار اور ڈیجیٹل کی طرف منتقلی، اور صنفی تفاوت سب سے اہم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "انہیں ریڑھ کی ہڈی کے طور پر ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوگی۔ ہمیں صرف ان منصوبوں کا علم ہونا اور ان تمام بڑی کمپنیوں اور بڑے مشاورتی شراکت داروں کے ساتھ رجسٹر ہونے کی ضرورت ہے، تاکہ ہمیں پتا ہو کہ کون سے پروجیکٹس آنے والے ہیں اور ہم خود کو ان کے لیے تیار کر لیں۔"
انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال ہم نے مملکت میں ایک کمپنی، سسٹمز عربیہ کو داخل کیا جس نے بڑی تعداد میں سعودی عرب اور بحرین میں کام کے لیے کانٹریکٹ حاصل کیے۔

ممکنہ کاروبار کے صحت مندانہ مواقع مملکت میں رفتار بڑھانے میں مدد کریں گے کیونکہ کمپنی فی الحال سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں صارفین کے حصول کو ہدف بنا رہی ہے۔

پیر نے کہا کہ "وہ سب اپنے کاروبار کو توسیع دینے میں مصروف ہیں، وہ سب ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن، AI پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے ہمارے پاس ان مارکیٹوں میں اپنی سرمایہ کاری کو دوگنا، تین گنا کم کرنے کے کافی مواقع ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ "ہمارا مصر کا مرکز نہ صرف ہمارے لیے ایک مارکیٹ، بلکہ سپلائی سنٹر بھی ہے۔" اور مزید بتایا کہ کمپنی نے مرکز میں سیکڑوں افراد کو ملازمت دی جو GCC کلائنٹس کی حمایت کرتے تھے، اس کی وجہ زیادہ تر زبان اور ثقافت کی انتہائی ضروری یکسانیت تھی۔

مصر کو ایک سپرنگ بورڈ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے، پیر کی فرم خطے کی دیگر مارکیٹوں کے حصول پر بھی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ "ہماری توجہ اب واقعی ان مارکیٹوں، مزید کمپنیوں کے حصول جو یا تو ان مارکیٹوں میں ہیں یا وہ ہمارے کام سے تعلق رکھتی اور اہم ہیں، پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ اساسی اور غیر اساسی نشوونما دونوں بہتر نتائج لائیں گی۔"

خلیجی خطے میں درپیش چیلنجز کے بارے میں سوال پر پیر نے کہا کہ انہیں مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑے چیلنج کا سامنا نہیں۔

ترقی اور نشوونما کے ملکی اور غیر ملکی منصوبوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی اپنی ہی توقعات سے آگے بڑھنے کے لیے نہایت تیزرفتار نشوونما کے دور میں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ "جب آپ آگے بڑھ رہے ہوں تو اس کے دو پہلو ہوتے ہیں: ایک طلب، دوسرا رسد۔ تو رسد کے شعبے میں ہم مضبوطی سے کام کر رہے ہیں نہ صرف لوگوں کو ملازمت دے کر بلکہ ہمارے پاس کئی تربیتی پروگرام بھی ہیں جو ہم ہر شعبے میں ہر سطح پر چلاتے ہیں۔"

پیر نے اطلاع دی کہ ان کی فرم نے حال ہی میں اس 'سال کے مائیکروسافٹ پارٹنر' کا ایوارڈ جیتا ہے جو ہماری گذشتہ سال کے دوران مائیکروسافٹ کی غیر معمولی ایپلی کیشنز، سروسز، اور ڈیوائسز کی ترقی اور فراہمی کا اعتراف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں