پاکستان میں سعودی معاونت سے آئل ریفائنری کے قیام کے لیے مقامی،چینی کمپنیوں سے سمجھوتے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے چار سرکاری اداروں نے سعودی عرب کی معاونت سے اربوں ڈالر مالیت سے آئل ریفائنری کے قیام کے منصوبے کے لیے مفاہمت کی تین یادداشتوں (ایم او یوز) پر دست خط کیے ہیں،ان کے تحت ضروری مقامی ایکویٹی کو بڑھایا جائے گا۔اس کے علاوہ ایک چینی فرم کے ساتھ انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اور کنسٹرکشن (ای پی سی) کا معاہدہ طے کیا ہے۔

12 ارب ڈالر کی لاگت سے ممکنہ طور پر گوادر میں آئل ریفائنری کے قیام کے منصوبے پر ابتدائی طور پر 2019 میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورۂ اسلام آباد کے موقع پراتفاق کیا گیا تھا۔اس میں روزانہ 350،000 سے 450،000 بیرل خام تیل کو صاف کرنے کی گنجائش ہوگی۔

وزیر مملکت برائے پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے جمعرات کو بتایا ہے کہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) نے مطلوبہ مقامی ایکویٹی بڑھانے کے لیے مفاہمت کی تین یادداشتوں پر دست خط کیے ہیں جبکہ ای پی سی معاہدے پر چین کی نیشنل آف شور آئل کارپوریشن (سی این او او سی) اور پاکستان کی مونارک انٹرنیشنل نےدست خط کیے ہیں۔

ان سمجھوتوں پر دست خط کی تقریب میں ڈاکٹر مصدق ملک نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ’’سعودی حکام کے ساتھ ہماری دوامور پر بات چیت ہوئی تھی۔ ان میں ایک واضح طور پر یہ تھا کہ دوسرے ایکویٹی پارٹنر کون ہوں گے، لہٰذا پاکستان کا پختہ یقین ہے کہ اگر یہ ایک قابل عمل منصوبہ ہے تو اس کو اس منصوبے میں اپنی ایکویٹی لگانا چاہیے۔لہٰذا ہم نے فی الحال 40 سے 45 فی صد سے زیادہ ایکویٹی پارٹنرشپ قائم کی ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور سعودی آرامکو ’’قابل احترام شراکت دار‘‘ ہیں اور انھوں نے مستقبل میں کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے حال ہی میں بات چیت کے کئی دور منعقد کیے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا:’’ہم آخری مراحل میں ہیں، یعنی ہم بنیادی طور پر اسپریڈشیٹ کی سطح پر ہیں، وہاں موجود تمام چھوٹی چھوٹی رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ پاکستان میں قریباً 300،000 بیرل تیل کو روزانہ مصفا کرنے کی صلاحیت کی حامل عالمی معیار کی ریفائنری قائم کی جا سکے‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ پی ایس او 25 فی صد کے ساتھ مقامی ایکویٹی میں برتری حاصل کر رہا ہے اور دیگر فرموں نے بھی 5 سے 10 فیصد کا وعدہ کیا ہے جس کی وجہ سے ہمارا ایکویٹی شیئر ضرورت سے زیادہ ہے۔اس کے علاوہ حکومتِ پاکستان ای پی سی معاہدوں کے مقصد کے لیے بہترین چینی کمپنی لائی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’’ہم پہلے ہی عالمی معیار کی ریفائنریوں کے قیام میں تجربے کے حامل تعمیراتی شراکت داروں کو مذاکراتی عمل میں شریک کر چکے ہیں اور وہ ایکویٹی میں بھی شراکت دار ہوں گے‘‘۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے مزید بتایا کہ نئی ریفائنری پالیسی کے اعلان کے بعد حکومت نے اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور آذربائیجان کے ساتھ بھی بات چیت شروع کردی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں