پنجاب میں موسلادھاربارشوں کے بعد سیلاب؛ہزاروں افراد بے گھر،خیبرپختونخوا میں پانچ ہلاک

آیندہ تین روز میں پاکستان کے بالائی اور وسطی علاقوں میں مون سون کی شدید سرگرمی کا امکان :محکمہ موسمیات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں دریائے چناب کے کنارے ٹوٹنے سے کم سے کم 50 دیہات زیر آب آ گئے ہیں جس سے ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں اور صوبہ خیبر پختونخوا میں مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام نے رواں ماہ کے اوائل میں مون سون بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب کے پیش نظر صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے 14 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا تھا۔

ضلع چنیوٹ میں فلڈ کنٹرول روم کے ایک اہلکار اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ موسمی بارشوں سے پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے اور دریا کے کٹاؤ کی وجہ سے نشیبی دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

ہمسایہ ملک بھارت نے دریائے سندھ میں پانی چھوڑدیا ہے جس سے پاکستان میں دریا چڑھ گئے ہیں اور بہت سے علاقوں میں سیلابی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ حکام نے دریائے چناب کے ساتھ حفاظتی بند باندھنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے لیکن خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید سیلاب کا امکان ہے۔

موسم گرما کا مون سون جون سے ستمبر تک رہتا ہے اور جنوبی ایشیا میں اس دوران میں سالانہ ہونے والی بارشوں کا 70-80 فی صد تک برستا ہے۔ یہ قریباً دو ارب کی آبادی والے خطے میں کروڑوں کسانوں کے ذریعہ معاش کے لیے ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ مٹی کے تودے گرنے کے واقعات پیش آتے ہیں اور سیلاب کے نتیجے میں ہزاروں ایکڑ پرکھڑی فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی موسمی بارشوں کو بھاری اور غیر متوقع بنا رہی ہے۔ پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جو طویل مدتی ماحولیاتی خطرات سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔

2022 میں ملک کے قریباً ایک تہائی حصے میں تباہ کن سیلاب آیا تھا جس جس سے تین کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے تھے۔حکومت کے علاوہ ملکی اور غیرملکی ادارے ابھی تک سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے اقدامات کررہے ہیں اور ان کے لیے پختہ مکانات تعمیر کیے جارہے ہیں۔

دریں اثناء محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آیندہ تین روز کے دوران میں ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں مون سون کی شدید سرگرمی (بارش) کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرۂ عرب سے مون سون کی لہریں ملک میں مسلسل داخل ہو رہی ہیں۔ملک کے بالائی اور وسطی حصوں میں بھی مغربی لہر موجود ہے۔


خیبرپختونخوا میں ہلاکتیں

دوسری جانب شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا میں موسلا دھار بارشوں کے سبب ہونے والے حادثات میں تین بچوں سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق 26 جولائی کی رات ضلع ایبٹ آباد میں مٹی کے تودے گرنے سے گھر کی دیواریں گرگئیں اور ایک شخص جاں بحق اور دو خواتین زخمی ہوگئیں۔

ضلع مانسہرہ میں مٹی کے تودے گرنے سے ایک ہی خاندان کے تین بچوں سمیت چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بدھ کی رات قصبے پوٹھا میں شدید بارش کے بعد پیش آیا۔ایک مقامی پولیس افسر نے بتایا کہ لینڈ سلائیڈنگ کے وقت خاندان سو رہا تھا اورچاروں افراد ملبے تلے دب گئے۔انھوں نے مزید کہا کہ بدھ کی رات کو بارش اور تیز ہواؤں کی وجہ سے سڑکوں اور پلوں کو بھی نقصان پہنچا۔

موسلا دھار بارش سے صوبے کے مختلف اضلاع بالخصوص چترال اور دیر میں شاہراہوں پرکئی ایک پل ٹوٹ گئے ہیں یا انھیں جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اپر کوہستان میں وادی کنڈیا اور چاپر نالے سے سیال سری جانے والی سڑکیں بھی بند ہیں۔ اتھارٹی نے کہا ہے کہ سڑکوں کی صفائی اور بحالی کا کام جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں