بلاول بھٹو کا روسی ہم منصب سے'اناج معاہدے' کی بحالی کی کوششوں سے متعلق تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ایک بین الاقوامی معاہدے کی بحالی کے بارے میں بات کی جو زیادہ تر ترقی پذیر ممالک کو یوکرینی اناج کی محفوظ برآمد کی اجازت دیتا ہے۔

جولائی 2022ء میں ترکی اور اقوام متحدہ کے درمیان مذاکرات کے بعد، بحیرۂ اسود اناج معاہدہ یعنی بلیک سی گرین انیشیٹو (بی ایس جی آئی)، جو "اناج ڈیل" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے زرعی مصنوعات اور کھاد لے جانے والے بحری جہازوں کو تین یوکرینی برآمدات چھوڑنے کی اجازت دی، تاکہ وہ روسی جنگی جہازوں سے بچنے کے لیے ترکی کے آبنائے باسفورس کے نقشے والے راستوں سے احتیاط سے سفر کر سکیں۔ گذشتہ سال برآمد کردہ 38.2 ملین ٹن گندم، اناج اور مکئی کا زیادہ تر حصہ ترقی پذیر، بالخصوص افریقی ممالک کو گیا۔

گذشتہ پیر کے روز روس نے معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا، کیونکہ صدر ولادی میر پیوتن نے الزام عائد کیا تھا کہ مغرب نے معاہدے کو "غیر مؤثر اور خراب کیا" اور اسے سیاسی استحصال کے لیے استعمال کیا۔

پاکستان معاشی انحطاط کا شکار ہے جس کی وجہ سے مئی کے مہینے میں افراطِ زر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔ اس وجہ سے غذائی قلت اور قیمتوں میں اضافے سے بچنے کے لیے پاکستان اس معاہدے کی بحالی کے لیے کہتا رہا ہے۔ وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اس ماہ اپنے روسی اور ترک ہم منصب کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے خارجہ امور کے مندوب، جوزف بورل سے بھی اس بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے بات کی۔

ریڈیو پاکستان نے ایک رپورٹ میں کہا کہ "وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے فریقین کی تشویش کو دور کرتے ہوئے بلیک سی گرین انیشیٹو کی بحالی کی بین الاقوامی کوششوں کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔" رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ دونوں مندوبین نے ٹیلی فون پر بات کی۔

رپورٹ کے مطابق، بلاول بھٹو نے غذا کی عالمی سپلائی چین میں خلل اور غذا کی قیمتوں میں اضافے پر معاہدے کے ممکنہ اثرات پر زور دیا۔

"بلاول بھٹو زرداری نے ایسا قابلِ عمل حل تلاش کرنے کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا جس سے بالخصوص ترقی پذیر ممالک کو فائدہ پہنچے جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔"

"انہوں نے امید ظاہر کی کہ بلیک سی گرین انیشیٹو کے تمام ارکان اس معاہدے کی بحالی کے لیے تعمیری اور مثبت مکالمے میں حصہ لیں گے۔"

رپورٹ میں کہا گیا کہ "سرگئی لاوروف نے جواب میں بلاول بھٹو کو یوکرین اناج کے معاہدے پر "اپنے ملک کا نکتۂ نظر پیش کیا"۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں شخصیات نے اس معاملے پر قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں