باجوڑ میں جے یو آئی کے ورکرز کنونشن میں دھماکا، مقامی امیر سمیت 44 افراد جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ورکرز کنونشن میں دھماکے کے نتیجے میں 44 افراد جاں بحق اور 100 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

دھماکا اس وقت ہوا جب جے یو آئی (ف) کے 400 سے زیادہ کارکنان اور حامی افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ضلع باجوڑ کے قصبہ خار میں ایک خیمے کے نیچے جمع ہوئے تھے اور ان کا کنونشن جاری تھا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر صحت ریاض انور نے 44 افراد کی ہلاکت اور 100 سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا اور بمبار نے اسٹیج کے قریب خود کو دھماکے سے اڑایا ہے۔

باجوڑ کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسر سعد خان نے بتایا کہ دھماکے میں جے یو آئی تحصیل خار کے امیر مولانا ضیااللہ جان بھی جاں بحق ہو گئے جبکہ زخمیوں کو تیمرگرہ اور پشاور منتقل کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔

ریسکیو 1122 کی فراہم کردہ ابتدائی معلومات کے مطابق اب تک 70 زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا جا چکا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

دھماکے کی آواز علاقے میں دور دور تک سنی گئی لیکن ابھی تک دھماکے کی نوعیت کے بارے میں کوئی چیز واضح نہیں ہو سکی کہ یہ خودکش تھا یا دھماکا خیز مواد کسی چیز میں نصب کیا گیا تھا۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دھماکے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ جے یو آئی کے کارکنان پر امن رہیں، وفاقی و صوبائی حکومتیں زخمیوں کو بہترین طبی علاج معالجہ فراہم کریں۔

انہوں نے جے یو آئی کے جلسے میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کی ہے اور وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے پی سے واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکریٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک کے حالات خراب کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’دھماکے میں شہید کارکنان کی خبر سے صدمہ پہنچا، جماعتی کارکن ہمارا قیمتی نظریاتی اثاثہ ہیں۔‘

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما حافظ حمداللہ نے قبل ازیں نجی چینل ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس جو اطلاع ہے اس کے مطابق ہمارے 10 سے 12 ورکرز شہید ہو چکے ہیں اور کئی درجن زخمی ہیں۔

پاکستان دھماکے کے بعد کے مناظر: اے ایف پی

انھوں نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کنونشن میں مجھے بھی جانا تھا لیکن میں ذاتی مصروفیت کی وجہ سے وہاں نہیں جا سکا۔

حافظ حمداللہ نے کہا کہ میں حملہ کرنے والوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اگر وہ اسے جہاد کہتے ہیں تو یہ جہاد نہیں ہے، یہ فساد اور کھلم کھلا دہشت گردی ہے، یہ انسانیت پر حملہ ہے، پورے باجوڑ اور ریاست پر حملہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ میں ریاست اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس دھماکے کی تحقیقات ہونی چاہیے، یہ پہلا واقعہ نہیں، اس سے پہلے بھی باجوڑ میں ہمارے مختلف سطح کے عہدیداران کو شہید کیا گیا جس پر ہم نے پارلیمنٹ میں بھی آواز اُٹھائی لیکن آج تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملے کا مقصد ملک میں افراتفری کی صورت حال پیدا کرنا ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تمام سیاسی قائدین اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

سراج الحق نے بم دھماکے کی فوری اور مکمل تحقیقات کروا کر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ بھی کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں