شدید مخالفت پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے تدارک پرتشدد انتہا پسندی بل ڈراپ کر دیا

یہ ایک بہت ہی خوفناک بل ہے، جس سے پرتشد انتہا پسندی ختم نہیں بلکہ بڑھے گی، بل کے سیکشن 5 اور 6 خوفناک ہیں: سینیٹر مشتاق احمد خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے تدارک پرتشدد انتہا پسندی بل اراکین کی شدید مخالفت کے بعد ڈراپ کر دیا۔ بل وزیر مملکت شہادت اعوان نے ایوان میں پیش کیا تھا۔

چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے بل کو قائمہ کمیٹی میں بھیجنے کا مطالبہ کر دیا جبکہ حکومتی اتحادی جماعت جمعیت علما اسلام نے بھی بل کی مخالفت کر دی۔

اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ یہ بل تمام سیاسی جماعتوں کے خلاف ہے، اس بل کی بھرپور مخالفت کرتا ہوں۔ اس بل پر حکومت نے اپنے اتحادیوں کو بھی اعتماد میں نہیں لیا۔

جے یو آئی رہنما سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ہمیں پتہ نہیں کل ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ آج سینیٹ کا اجلاس بلانے کی کیا ضرورت تھی۔ سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ یہ بل ہمارے لیے طعنہ بنے گا، اس بل میں بنیادی حقوق متاثر ہوں گے، پارٹی کا پتہ نہیں، میں اس بل کی حمایت نہیں کر سکتا۔

تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ یہ بل تحریک انصاف کو الیکشن سے روکنے کی سازش ہے، اس بل کو کمیٹی میں بھیجا جائے۔ مسلم لیگ کے رہنما عرفان صدیقی نے بھی کہا کہ یہ بل ابھی تو قومی اسمبلی میں پیش ہی نہیں ہوا، قانون جوں کا توں منظور ہو گیا تو یہ بڑا شکنجہ ثابت ہوگا۔ یہ سیاست دانوں سمیت سب پر قدغن لگاتا ہے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اس حوالے سے کہا کہ آج اجلاس بل کے لیے نہیں بلکہ ایوان کے دن پورے کرنے کے لیے بلایا تھا، حکومت اس بل کو ڈراپ کرے نہ کرے، میں ڈراپ کرتا ہوں۔

دوسری جانب رہنما پیپلزپارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پارلیمانی رہنمائوں کی موجودگی میں اجلاس بلانے پر اتفاق ہوا تھا، اگر بل قائمہ کمیٹیوں میں گئے تو پھر لیپس ہو جائیں گے۔ قومی اسمبلی کی مدت کم رہ گئی جو بل وہاں پاس ہوئے انہیں منظور کرنا ہے۔

سینیٹ کے پاس آپشن ہے، قانون میں بعد میں ترامیم لا سکتے ہیں۔ بل کے متن کے مطابق پرتشدد انتہا پسندی سے مراد نظریاتی عقائد، مذہبی وسیاسی معاملات میں طاقت کا استعمال اور تشدد ہے، اس کے علاوہ اس میں فرقہ واریت کی خاطر دھمکانا یا اکسانا بھی شامل ہیں۔

مجوزہ بل کے مطابق فرقہ واریت کی ایسی حمایت کرنا جس کی قانون میں ممانعت ہو، پرتشدد انتہا پسندی میں شامل کسی فرد یا تنظیم کی مالی معاونت کرنا یا تشدد اور دشمنی کے لیے اکسانا بھی شامل ہے۔ بل کے مطابق شیڈول میں شامل

شخص کو تحفظ اور پناہ دینا پرتشدد انتہا پسندی ہے، پرتشد انتہا پسندی کی تعریف کرنا اور اس کے لیے معلومات پھیلانا بھی پرتشدد انتہا پسندی میں شامل ہے۔

قبل ازیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے لکھا کہ پی ڈی ایم حکومت آج سینیٹ میں انسداد پرتشدد انتہا پسندی کا بل پیش کر رہی ہے مگر حکومت کے تیور بتا رہے ہیں کہ اس بل کو کمیٹی بھیجنے یا اس پر بحث کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور اسی وقت اس کو پاس کر لیں گے۔

سینیٹر مشتاق احمد نے لکھا کہ یہ ایک بہت ہی خوفناک بل ہے، جس سے پرتشد انتہا پسندی ختم نہیں ہو گی بلکہ بڑھے گی۔ بل کے سیکشن 5 اور سیکشن 6 خوفناک ہیں۔ یہ پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کا بل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی لیڈر یا سیاسی جماعت کو طاقت کے ذریعے مائنس کرنے کی کوشش غلط ہے۔

’’اس سے نہ صرف آئندہ الیکشن میں تمام سیاسی جماعتوں کو مقابلے کا یکساں میدان ملنا مشکل ہوگا بلکہ صاف شفاف الیکشن کا انعقاد بھی مشکوک ہو جاتا ہے۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں