پاکستان اورچین میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے6 معاہدوں اورمفاہمت کی یادداشتوں پردست خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان اور چین نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے چھے معاہدوں اورمفاہمت کی یادداشتوں پردست خط کیے ہیں ۔

پیر کو اسلام آباد میں ان معاہدوں پردست خط کی تقریب میں وزیراعظم شہبازشریف اورچین کے نائب وزیراعظم ہی لی فینگ بھی موجود تھے۔منصوبہ بندی وترقی کے وزیر احسن اقبال اورچین کے قومی ترقی اوراصلاحات کمیشن کے نائب چیئرمین نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کی مشترکہ تعاون کمیٹی کی دستاویزات پردست خط کیے ہیں۔

احسن اقبال اور چین کے قومی ترقی اور اصلاحات کمیشن کے نائب چیئرمین نے سی پیک کے لائحہ عمل کے تحت ماہرین کے تبادلے کا طریق کار وضع کرنے سے متعلق مفاہمت کی ایک یادداشت پر دست خط کیے۔تیسری دستاویز پر قومی تحفظِ خوراک کی وزارت کے سیکرٹری ظفر حسن اور چینی ناظم الامور پانگ چَن ژیو نے دست خط کیے۔اس کے تحت پاکستان سے چین کو خشک مرچیں برآمد کی جائیں گی۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ممبر پلاننگ عاصم امین اور چینی ناظم الامور پانگ چن ژو نے قراقرم ہائی وے کی دوبارہ بحالی کے قابل عمل منصوبے سے متعلق چوتھی دستاویز پردست خط کیے ۔فریقین نے سفارتی ذرائع سے صنعتی کارکنوں کے تبادلے کے پروگرام کی یادداشت پر بھی دست خط کیے۔

فریقین نے ایم ایل-1منصوبے کو ترقی دینے پر بھی اتفاق کیا۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ ہم سی پیک کے دوسرے مرحلے میں داخل ہورہے ہیں جس سے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زراعت جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ انھوں نے کہاکہ سی پیک کے تحت پاکستان کے توانائی اور پن بجلی کے شعبوں ، سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں 25ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری آئی ہے۔

شہبازشریف سے نائب وزیراعظم چین کی ملاقات

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی صدر شی جن پنگ کے خصوصی نمائندہ، چین کے نائب وزیراعظم اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے پولٹبیورو کے رکن ہی-لی فینگ نے ملاقات کی۔

انھوں نے پاکستان اور چین کے تعلقات کے متعدد پہلوؤں،بشمول چین پاکستان اقتصادی راہداری اور دوطرفہ اقتصادی و مالیاتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے ہی-لی فینگ کو مارچ میں چین کے نائب وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونے پر مبارک باد پیش کی۔

انھوں نے کہا کہ چین پاکستان میں 2022 کے تباہ کن سیلاب اور درپیش موجودہ معاشی چیلنجوں بالخصوص آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی مشکل گھڑیوں میں پاکستان کے شانہ بہ شانہ کھڑا رہا ہے۔

انھوں نے پاکستان اور چین کی تزویراتی شراکت داری،دوستی اور بھائی چارے پر مبنی تعلقات کو اجاگر کیا اور دونوں ممالک کے درمیان اشتراک میں توسیع پر زور دیا۔

چینی نائب وزیراعظم نے پاکستان کی معاشی و اقتصادی ترقی اور خوش حالی میں چین کے مستقل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے رہ نماؤں نے سی پیک منصوبے کی پاکستان اور چین کی مشترکہ معاشی اور اقتصادی ترقی میں مرکزیت پر زور دیا

چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کی دسویں سال گرہ اس منصوبے کو ازسر نو توسیع دینے کا ایک سنہری موقع ہے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی چین کو زرعی برآمدات بڑھانے میں ملک کی دلچسپی سے آگاہ کیا.ملاقات میں پاکستان اور چین کے درمیان زرعی، صنعتی اور مواصلات سمیت دیگر شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دست خط کیے گئے۔دونوں رہ نماؤں نے علاقائی مسائل اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ پر ایک دوسرے کی حمایت کے عزم کا اظہار کیا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چینی نائب وزیراعظم ہی-لی فینگ کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام بھی کیا۔چینی وفد میں اسٹیٹ کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل گو وے، چینی نائب وزیرِ خارجہ سن ویڈونگ، نائب چیئرمین نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کونگ لیانگ، پیپلز بینک آف چائنا کے ڈپٹی گورنر زوان چینگ نینگ اور وانگ کی بنگ، چینی وزارت تجارت کے شعبہ ایشیائی امور کے ڈائریکٹر جنرل وانگ لی پنگ، پاکستان میں چین کے سفارت خانے کی ناظم الامور پانگ چن ژو اور دیگر اعلیٰ چینی افسر شامل تھے۔

پاکستانی وفد میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر تجارت سید نوید قمر، وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، وفاقی منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر برائے ریلوے و ہوابازی خواجہ سعد رفیق، وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور مختلف وزارتوں سے اعلیٰ حکام شامل تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں