چینی صدر کے وژن کے مطابق خطے میں ترقی کے لیے کوشاں ہیں: وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسلام آباد میں پاکستان اور چین کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرنے کی تقریب منعقد ہوئی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے 10 سال مکمل ہونے پر میں چین کے نائب وزیر اعظم ہی لیفینگ کی پاکستان آمد پر شکر گزار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک معاہدے پر دستخط آج سے 10 برس قبل سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہوئے تھے اور اس کی سیاہی سوکھنے سے قبل ہی اس پر عملدرآمد کا آغاز ہو گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی بدولت آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں شعبہ توانائی، روڈ، انفرا اسٹرکچر، پبلک ٹرانسپورٹ اور ہائیڈل پاور سیکٹر میں 25 ارب ڈالرز سے زیادہ کی سرمایہ کاری آئی۔

قبل ازیں چین کے نائب وزیر اعظم اور کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن ہی لی فینگ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے 10 سال مکمل ہونے پر ہونے والی تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچنے کے بعد شہباز شریف سے ملاقات کرنے کے لیے وزیراعظم ہاؤس پہنچے جہاں ان کا پرجوش استقبال کیا گیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر اعظم ہاؤس کے مرکزی داخلی دروازے پر چینی وفد کا استقبال کیا۔

چینی نائب وزیر اعظم ہی لی فینگ کی آمد پر وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اراکین بشمول وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، وزیر داخلہ رانا ثنااللہ، سید نوید قمر، احسن اقبال، سعد رفیق، مریم اورنگزیب، حنا ربانی کھر اور طارق فاطمی کا ان سے تعارف کرایا۔

قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے چینی نائب وزیر اعظم اور ان کے وفد کا پرجوش استقبال کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ ’وہ سی پیک کے 10 سال مکمل ہونے پر ہونے والی تقریب میں شرکت اور اس گیم چینجنگ انیشی ایٹو سے ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے پاکستان پہنچے ہیں‘۔

ادھر وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک)کی 10 ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کے لئے آئے چین کے نائب وزیر اعظم ہی لی فینگ کا پرتپاک خیرمقدم کرتی ہے۔

’’ہمیں پاکستان اور چین کے درمیان پائیدار دوستی پر فخر ہے جس کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو اور چیئرمین مائوزے تنگ نے رکھی۔‘‘

ان خیالات کا اظہار سینیٹر شیری رحمان نے سوموار کے روز ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کیا۔ شیری رحمان نے کہا کہ ہمارے لئے سی پیک ایک قابل فخر منصونہ ہے جس کا سہرا صدر شی جن پنگ اور آصف علی زرداری کو جاتا ہے۔ صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد آصف علی زرداری نے اپنا پہلا سفارتی دورہ چین کا کیا تاکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کے قائم کردہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔ انہوں نے پہلے سال میں چار بار چین کا دورا کیا۔

آصف علی زردای نے بطور صدر اپنے دور میں متعدد بار چین کا دورہ کیا اور صدارت چھوڑنے کے بعد بھی انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ سی پیک کی پیشرفت کو بڑھانے کے لیے چین کا دورہ کیا۔ یہی وجہ ہے چین کی حکومت نے ان کو سی پیک کا بانی قرار دیا۔ یہ تاریخ ساز منصوبہ ہمارے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا ہے۔

سابق نااہل حکومت کی وجہ سے سی پیک سست روی کا شکار ہوا، تاہم ہم اس گیم چینجر منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ پاک چین دوستی زندہ آباد۔ شیری رحمان نے اپنے ٹویٹ کے ساتھ سابق صدر آصف علی زرداری اور چینی صدر شی جن پنگ کی تصویر بھی شیئر کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں